بھارت نے ہی جنت بے نظیر کو جہنم زار بنایا، یہاں کی دلفریب فضاؤں کو گولی بارودسے زہر آلودہ بنا دیا:گیلانی

سرینگر:۲۷،جنوری : سید علی گیلا نی نے کہا ہے کہ یہ بھارت کا جابرانہ فوجی قبضہ ہی ہے جس نے ریاست جموں کشمیر کے جنت نما خطے کو اپنی بربریت، سفاکیت اور ظلم وجبر سے جہنم زار بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی دلفریب فضاؤں کو گولی بارود کی گن گرج سے زہر آلودبنا دیاہے۔ سرسبز ڈھلوانوں کو اپنے قابض فوجیوں کے بوٹوں تلے روندھ ڈالا ہے۔ یہاں کی ہنستی کھیلتی بستیوں کو ڈائنامائنڈ اور گن پورڈر سے کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق سید علی گیلانی نے ان خیالات کا اظہار ریاستی گورنر کے 26؍جنوری کی تقریر جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ریاست جموں کشمیر کو پھر ایک بار جنت بنایا جائے گا‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ حریت راہنما نے کہا کہ جب تک ریاست جموں کشمیر پر غیرملکی فوجی قبضہ جاری ہے اس خطے کو کسی بھی صورت میں ’’جنت‘‘ میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ ایک آفاقی اصول اور تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی ظالم اور غاصب کسی مظلوم اور مجبور قوم کی زمین پر زبردستی قبضہ کرتا ہے تو وہ اُس قوم کو فساد اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 ؁ء میں بھارت نے دھوکے اور فریب سے سرزمین کشمیر کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے ہتھیا لیا اور اس ناجائز ، غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر جمہوری قبضے کے خلاف یہاں کے عوام پچھلے 71سال سے جدوجہد میں مصروف ہیں جس کے نتیجے میں آج تک چھ لاکھ سے زائد انسانی نفوس کو گاجر مولی کی طرح انتہائی بے دردی کے ساتھ کاٹا گیا ہے، لاکھوں کی تعداد میں بلالحاظ عمر وجنس ہمارے عزیز جوانوں، بزرگوں اور خواتین کو جیل کے آہنی سلاخوں کے اندر قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا گیا، تعذیب خانوں میں ہماری نوجوان نسل کے ساتھ جسمانی تشدد اور ناقابل بیان حد تک غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا، معصوم اسکولی بچوں کوعمر بھر کے لیے بینائی سے محروم کردیا گیا، ہماری خواتین کی تذلیل اور ان کی عصمت ریزی کو بھارتی سورماؤں نے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ بھارت کی 10؍لاکھ افواج کی موجودگی نے اس خطہ ارض کو بقول یورپی یونین ایک بڑے اور ’’خوبصورت جیل‘‘ کا خطاب بھی ملا۔بھارت کی فوج جدید سامان حرب وضرب سے لیس ، کالے قانون کے محفوظ حصار میں اور کشمیریوں کے خون کے پیاسے کیسے اس جہنم نما خطے کو جنت میں تبدیل کرسکتے ہیں اور ایسی پرفریب باتوں کو مضحکہ خیز ہی قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ اندھی فوجی طاقت، ظلم وبربریت اور بے تحاشا قتل وغارت گری سے اُن گنت قبرستان تو ہوسکتے ہیں جنت نہیں۔ انہوں نے قابض حکمرانوں کے مکروفریب سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ یہاں کے چاپلوسوں اور جی حضوریوں کی ایک کھیپ تیار کررکھی ہے جس کے ذریعے وہ شرم وغیرت کی ہر قبا چاک کرکے اپنی قوم کے سامنے ایکسپوز ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی مکارانہ اور فریب کارانہ چالوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور ہر وقت اپنے آقاؤں کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے کر ابن الوقتی اور حاشیہ برداری کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔حریت راہنما نے کہا کہ ہماری قوم پوری طرح سے متفق ہے کہ جب تک بھارت کا غاصبانہ قبضے سے ہم آزاد نہیں ہوں گے یہاں نہ تو کسی فرد کو چین اور سکون میسر ہوگا، نہ یہاں کی فضا دلفریب اورصحت افزا ہوں گی اور نہ یہاں کسی بھی تعمیر وترقی کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بدنصیب خطہ میں اس گٹھن اور وحشت کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب ہمارا ناجائز قابض ہماری امنگوں اور آرزوؤں کے مطابق ہمارا بنیادی حق، حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے کے عملی اقدامات کرے۔ اسی حقیقت پسندی میں پر مرض کی دوا موجود ہے۔

Comments are closed.