ہم قوم ہے بکھا ری نہیں امداد کیلئے نہیں امن کیلئے ملکوں کادورہ کرتے ہیں
سر ینگر/ 27 جنوری/ اے پی آ ئی دور لندن کے دوران کشمیر مسئلے کو اجاگر کر نے بھارت پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا نے کا عندیہ دیتے ہوئے پاکستانی وزیرخا رجہ نے کہاکہ ہم ملکوں کا دورہ ایڈ کیلئے نہیں کرتے ہیں پاکستان ایک قوم ہے بکھا ری نہیں ۔بین الاقوامی برادری کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا دنیا نے پاکستان کی اس کاروا ئی پر خوشی کا اظہار کیا۔اے پی آ ئی کے مطابق ملتان میں میڈیا کے ساتھ میٹنگوں کے دوران پاکستان کے وزارت خارجہ شاہ محمود قریشی کہا کہ ہمیں ایک قوم ہے بکھاری نہیں امداد حاصل کرنے کرنے کیلئے ملکوںکا دورہ نہیں کرتے ہے خطے میں امن قائم کرنا چاہتے ہے تا ہم تر قی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے ۔سوالوں کاجواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ بامعنی ٰبتائج خیز بات چیت کا ہمیشہ سے متمنی رہا ہے اور ہم مسائل کو بات چیت کے ذریعے پر امن ذرائع کے تحت حل رنے میں یقین رکھتے ہیں ۔پاکستانی وزیر خا رجہ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو انتہا ئی نازک پرتناؤ کشیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے لندن دورے کے دوران برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ اور سرکار کو کشم رکی موجودہ صورتحال کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کے علاوہ بر طانیہ کی حکومت پر زور دیگے کہ جموہ اس مسئلے کو حل کر انے کے کے خا طر اپنا رول ادا کریں ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہی بر صغیر کی دو نیوکلیئرطاقتوں کے مابین اختلافات موجود ہے جوامن کیلئے بھی خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا اکہ کشمیر مسئلہ اگر چہ راتوں رات حل نہیں کیاجاسکتا ہے تا ہم مسلسل بات چیت کا عمل جاری رکھنے سے ہی مسئلے کے حل کیلئے راہیں نکل آ سکتی ہے ۔بھارت پاکستان کے مابین آ بی تنازعات اور پاکستانی آبی کمشن کاوفد بھارت کے دورے پر جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے کہا کہ گھبرا نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آ گے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا دنیا پاکستان کے موقف کواب سنجیدگی کیساتھ لے رہی ہے ۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے پڑوسی ملک بھارت کو بار بار بات چیت کیلئے مدعو کر نے سے دنیا نے اپنے خیالات پاکستان کے بارے میں تبدیل کر دیئے ہیں ۔کرتار پور راہ داری کھولنے اور بھارت کے ساتھ دوسرے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کر انے کی پاکستان جوکوشش کررہا ہے بین الاقوامی برادری ان سے سے سنجیدگی کیساتھ لے رہی ہے ۔دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان چھ روز تک بات چیت جاری رکھنے پر اطمنان کااظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ افغانستان میں امن قا ئم کرنے اور طالبان کو مذاکرات کی میزپر لانے کیلئے پاکستان نے جورول ادا کیا ہے دنیا اب اس سے بہتر نظروں سے دیکھ رہی ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں نہ کسی سے الجھنا چاہتا ہے اور نہ ہی جارحیت کا مظاہراہ کرنا چاہتا ہیں بھارت سمیت تمام ملکوں کیساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات کو استوار کرنا چاہتے ہے یہی پاکستان کی خارجہ پالسی ہیں۔
Comments are closed.