کشمیر کا مسئلہ صرف ایک بامقصد ڈائیلاگ سے حل ہوسکتا ہے : سوز

گورنر صاحب کو خود پہل کرنی چاہیے کہ وہ بات چیت کا راستہ کھولیں

سرینگر /27جنوری: مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا کہ گورنر ستیہ پال ملک صاحب تقریباً ہر روز کشمیر کے لوگو ں کو کسی نہ کسی مسلے پر اپنی راے سے نوازتے رہتے ہیں!، سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ آج میں بھی اپنی راے گورنر صاحب کے سامنے رکھتا ہوں جس پر عمل کر کے وہ ملک کے لیے اہم خدمت انجام دے سکتے ہیں۔چو کہ ملک صاحب میری طرح یہ راے قایم کر چکے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے کشمیر کا مسلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے گورنر صاحب کو اسی بات پر لوٹ آنا چاہیے جو انہوں نے عہدہ سنھبالنے کے وقت کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھولیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں ان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے لوگ خوب سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے مسلے کا حل کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔اس لیے گورنر صاحب کو خود پہل کرنی چاہیے کہ وہ بات چیت کا راستہ کھولیں۔ سوز نے کہا کہ میری راے یہ ہے کی گورنر صاحب کو براہ راست جموں و کشمیر حریت کانفرنس کے نمایندہ گروپ (JRL) (یعنی سہ نفری قیادت) کے ساتھ ڈیلاگ شروع کرنا چاہیے۔ یہی قابل عمل حل ڈھونڈنے کا راستہ ہے۔ اس طرح گورنر صاحب ملک کے لیے ایک بڑا کام انجام دیں گے!۔‘‘

Comments are closed.