ترال کمسن لڑکے کے اہلخانہ کی باز آباد کاری کیلئے اقدامات اُٹھانے کی انتظامیہ کو ہدایت
سرینگر /27جنوری /سی این آئی/ فورسز کی جانب سے رہائشی مکان منہدم کرنے کے معاملے میں حقوق اطفال پینل نے سرکار کو ہدایت دی ہے کہ ترال کے لڑکے کے اہلخانہ کو معاوضہ فراہم کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ انتظامیہ کے ساتھ اس حوالے سے تعاون کریں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ترال میں سرکاری فورسز کی جانب سے ایک بیوہ کا مکان فورسز کی جانب سے منہدم کرنے کے بعد اس کے 14برس کے لڑکے کو حراست میں لینے کے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حقوق اطفال کی عدالتی پینل نے سرکار کو ہدایت کی ہے کہ اس غریب کنبہ کی بازآباد کاری کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔ چیرپرسن سلیکشن کم ۔اؤر سائٹ کمیٹی (ایس سی او سی )ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر صوبائی اور ضلع انتظامیہ کے ساتھ اُٹھایا ہے ۔ مذکورہ کنبے کے رہائشی مکان کو فورسز نے جنگجوؤں کو پناہ دینے کے الزام میں منہدم کیا تھا جس کے بعد انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ کنبے کی باز آباد کاری کیلئے فوری طور پر اقدامات اُٹھائیں تاکہ اس شدت کی سردی اور خراب موسمی صورتحال کے بیچ انہیں رہنے سہنے کا کوئی بندوبست ہوجائے ۔ محمودا جس کا رہائشی مکان فورسز نے بارود لگاکر مہندم کیا تھا کا شوہر شاہنواز احمد میر جو کہ پیشے سے ایک ڈرائیور تھا اور اودھمپور میں 2009میں ایک سڑک حادثے میں ازجان ہوا تھا جس نے اپنے پیچھے ایک لڑکی اور دوکمسن لڑکے چھوڑے تھے جس میں سے ایک لڑکا ذہنی طور معزور ہے ۔ یہ معاملہ حقوق اطفال پنل ’جونیل جسٹس پینل ‘کے پاس حقوق اطفال کیلئے کام کرنے والی ایک انجمن نے پہنچایا تھا ۔انجمن نے دعویٰ کیا تھا کہ محمودہ کا14برس کا لڑکا فورسز نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے جس پر پولیس نے ان کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ لڑکا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا اس کے ساتھ ساتھ پولیس نے کنبہ پر یہ بھی الزام لگایا تھا کہ وہ جنگجوؤں کو پناہ دے رہا ہے تاہم مذکورہ کنبے نے پولیس کے اس جرم کی تردید کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد قراردیا ہے ۔
Comments are closed.