کھنمو جھڑپ میں جاں بحق مقامی جیش جنگجو آبائی علاقے میں سپرد خاک ، 11مرتبہ نماز جناز ہ ادا

چھ ماہ قبل عسکری صفوں میں شامل ہوا ، پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں تعزیتی ہڑتال ، کئی مقامات پر جھڑپیں

سرینگر /27جنوری /سی این آئی/ ایک درجن مرتبہ نماز جنازوں کی ادائیگی کے بعد کھنمو جھڑپ میں جاں بحق مقامی جیش جنگجوکو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سنیچروار کی شام دیر گئے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جلوس جنازہ میں ایک مرتبہ پھر جنگجو نمودار ہوئے جنہوں نے ہوائی فائرنگ کرکے سلامی دی ۔ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو ثاقب شفیع کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ دسویں جماعت امتحان میں اچھے نمبرات حاصل کرکے عسکری صفوں میں چھ ماہ قبل شامل ہوا تھا ۔اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر کے کھمنو علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران دو جیش جنگجو جاں بحق ہوگئے جن میں سے ایک مقامی جنگجوجس کی شناخت 17سالہ ثاقب شفیع ولد محمد شفیع ساکنہ راتھر پورہ آری ہل پلوامہ کے بطور ہوئی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ جونہی سنیچروار کی شام کو ثاقب شفیع کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ رات بھر جاری رہا۔مکمل ہڑتال کی پرواہ کئے بغیر پلوامہ کے کئی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے مہلوک جنگجو کے آبائی علاقے کا رخ کیا جس دوران انہوں نے جاں بحق جنگجوکا نماز جنازہ ادا کیا ۔ عین شاہدین کے مطابق لوگوں کے بھاری رش کے پیش نظر ثاقب کا نماز جنازہ 11مرتبہ ادا کیا گیا جبکہ جلوس جنازہ میں کئی جنگجوؤں بھی نمودار ہوئے جنہوں نے ساتھی کو سلامی دینے کیلئے ہوائی فائرنگ کی ۔ تاہم پولیس نے اس ضمن میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ۔ ثاقب کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ دسویں جماعت میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد چھ ماہ قبل عسکری صفوں میں شامل ہو گیا تھا جبکہ انہوں نے اپنے پیچھے غریب ماں باپ اور دو کمسن بھائی بہنوں کو چھوڑ دیا ۔ ثاقب شفیع کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ انتہائی شریف اور ذہین لڑکا ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا کافی پسندیدہ تھا جبکہ ان کے والد محمد شفیع اکثر و بیشتر بیمار رہنے کے باوجود مزدوری کرکے گھریلو اخراجات پورے کر رہا تھا اور ان کا شوق تھا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے ( مہلوک ثاقب ) کو پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنا سکے ۔

Comments are closed.