سانحہ کپوارہ کی برسی :ضلع میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال زندگی درہم برہم

فوج کے ہاتھوں مارے گئے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

سرینگر /27جنوری /سی این آئی/ سانحہ کپواڑہ کی برسی کے موقعہ پر مزشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر اتوار کے روز شمالی کشمیر کے کپوارہ میں کو مکمل ہڑتال کی گئی۔ خیال رہے کہ سال 1994کو آج ہی کے روز کپوارہ بازار میں فوج کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں27عام شہریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا تھا جبکہ درجنوں افراد کو زخمی کردیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف کی گئی ہڑتال کے نتیجے میں پورے کپوارہ میں بازار بند رہے جبکہ ہر قسم کی کاروباری و تجارتی سرگرمیاں مکمل طور ٹھپ ہو کے رہہ گئی جبکہ بنک ، سرکاری و نجی دفاتر بھی بند رہے ۔ اس دوران ٹریفک کی آمد ورفت بھی ٹھپ رہی۔ دریں اثنا مرنے والے افراد کے حق میں ان کے مزاروں پر اجتماعتی فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے لواحقین کے ساتھ ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا جبکہ کئی تعزیتی مجالس کا بھی اہتمام کیا گیا۔ سی این آئی کے مطابق سال 1994کی 27جنوری کے فوج کی ہاتھوں کئے گئے قتل عام کے خلاف سنیچروار کو شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ عام شہریوں کے قتل عام کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ہڑتال کی کال دی تھی۔ تفصیلات کے مطابق اس قتل عام کے خلاف پورے کپوارہ میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ ہڑتال کے نتیجے میں اتوار کو قصبے و دوسرے علاقوں میں ہوکا عالم رہا۔ نمائندے کے مطابق ہڑتال کے نتیجے میں پورے کپوارہ میں بازار مکمل طور بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت بھی پوری طرح ٹھپ رہی۔ دکان، کاروباری و دوسرے تجارتی ادارے ، بنک سرکاری و نجی دفاتر بھی مکمل طور بند رہے۔ مکمل ہڑتال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کپوارہ قصبے کی سڑکیں سنان دکھائی دے رہے تھی جبکہ امن وقا نون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ اس دوران فوج کے ہاتھوں مارے گئے 27عام و بے گناہ شہریوں کی یاد میں کئی تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں مارے گئے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ان کے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ مارے گئے افراد کی قبروں پر ان کے لواحقین و کئی تنظیموں جن میں علیحدگی پسند جماعتوں کے علاوہ ٹریڈرس فیڈریشن کپوارہ بھی شامل ہے نے خراج عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی۔ نمائندے کے مطابق ہڑتال سے کپوارہ قصبے و اس کے دوسرے علاقوں میں تمام قسم کی سرگرمیاں پوری طرح معطل رہی۔ نمائندے کے مطابق سال1994کی27جنوری کی صبح کپوارہ کے مین چوک میں فوجی اہلکاروں نے اپنی بندقوں کے دہانے کھول کر اندھا دھند طریقے سے گولیاں چلائی جس کے نتیجے میں موقعے پر ہی27فراد جان بحق ہوگئے اور درجنوں دوسرے افراد زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آج بھی اس واقعے کو یاد کرکے رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کس طرح فوجی اہلکاروں نے طیش میں آکر نہتے شہریوں کو اپنی گولیوں نشانہ بنایا۔نمائندے کے مطابق کپوارہ قصبے کے ساتھ ساتھ ضلعے کے باقی دوسرے علاقوں میں میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی گئی ۔ واضح رہے اس قتل عام میں ملوث فوجی اہلکاروں و افسروں کے خلاف آج تک کئی کاروائی نہیں کی گئی جبکہ متاثرین کا کہنا ہے کہ و گذشتہ 23برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں لیکن کوئی بھی انہیں انصاف فراہم نہیں کررہا ہے۔ اس قتل عام کے متاثر ہوئے لوگ آج بھی کسمپری کی حالت میں ہیں کیونکہ قتل عام میں کسی گھر کا واحد کمانے والے تھا کسی کا باپ تھا ۔

Comments are closed.