ریاستی انتظامی کونسل نے عوامی اہمیت کی ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے، 57 ہیکٹر جنگلات اراضی کی منتقلی کو منظوری دی

جموں: ریاستی انتظامی کونسل کا ایک اجلاس آج یہاں گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سڑکوں ، پینے کے پانی ، بجلی ، ریلوے اور فائراینڈ ایمرجنسی سیکٹروں میں ترقیاتی سرگرمیاں عملانے کے لئے 57ہیکٹر جنگلاتی اراضی کی منتقلی کومنظوری دی گئی۔
کونسل نے سندری بنی نوشہرہ میں ڈگری کالج کی تعمیر کے لئے جنگلاتی اراضی کو منتقل کرنے کو بھی منظوری دی ۔
یہ منظوری فارسٹ ایڈوائزی کمیٹی کی 111ویں اور 112ویں میٹنگوں کی سفارشات کے تناظر میں دی گئی جو چیف سیکرٹری کی صدارت میں بالترتیب 4؍ جنوری 2019ء اور 21؍ جنوری 2019ء کو منعقد ہوئی تھی۔
آج کی میٹنگ میں جن پروجیکٹوں کے لئے جنگلاتی اراضی کی منتقلی کو منظوری دی گئی اُن میں چننئی ۔ سدھ مہادیو قومی شاہراہ 244 ، آر ایس پورہ۔ سچیت گڈھ سڑک کو توسیع دینے ، بابا ریشی میں واٹر سپلائی سکیم ، آلسٹینگ سے لیہہ تک ترسیلی لائن کے لئے ٹاورں کی تنصیب ، رام نگر میں فائر اینڈ ایمرجنسی سٹیشن کی تعمیر ، کشتواڑ اور اودھمپور اضلاع میں موبائیل فون ٹاوروں کی تنصیب ، پونچھ ، راجوری اور بانڈی پورہ اضلاع میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت سڑکوں کی تعمیر ، جوڑیاں میں دریائے چناب پر 1640میٹر لمبے پل کی تعمیر اور فوج و جی آر ای ایف کے کئی اہم پروجیکٹ شامل ہیں ۔ان پروجیکٹوں پر فارسٹ کلیرنس نہ ملنے سے وجہ سے اب تک کام شروع نہیں کیا جاسکا تھا۔ریاستی انتظامی کونسل کے فیصلے سے ان پروجیکٹوں پر کام شروع ہوگا اور عام لوگوں کی راحت کے لئے ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

Comments are closed.