کٹھوعہ اور راجوری میں ہندوپاک افواج کے مابین گولہ باری ،فوجی اہلکار زخمی

سانبہ میں گذشتہ دنوں زخمی ہونے والا فوجی افسر زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا

سرینگر/15جنوری/سی این آئی/ سرحدی ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر اور راجوری کے سندر بنی سیکٹر ، میں حد متارکہ پر آج ایک بار پھر بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین گولیوںکاشدید تبادلہ ہو ایک بی ایس ایف اہلکارزخمی۔ادھرسانبہ میںگذشتہ دنوں پاکستانی فوج کی سنیپر فائرنگ کے نتیجے میںزخمی ہونے والا ایک بی ایس ایف آفسیرآج زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔گذشتہ برس 2018میں ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین جنگ بندی معاہدے کی 2,936بار خلاف ورزی کی گئی ۔جبکہ رواں برس کے محض 15دنوںمیں 13روز جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ۔ کرنٹ نیوزآف انڈیا کے مطابقسرحدی ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر اور راجوری کے سندر بنی سیکٹر میں منگل کے روز بھی ہندوپاک افواج کے مابین ایک بار پھرشدید گولہ باری ہوئی جس میں ایک بی ایس ایف اہلکار زخمی ہوا ہے ۔ادھرگذشتہ سامبہ سیکٹر میں کراس بارڈر فائرنگ میں زخمی ہونے والا بی ایس ایف اہلکار منگل کو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ونے پرساد نامی بی ایس ایف اہلکار پاکستانی فورسز کے ساتھ گولیوں کے تبادلے میں گذشتہ روز زخمی ہوا تھا۔حکام کے مطابق اہلکار کو ستواری کے اسپتال لیجایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاسکااور زندگی کی جنگ ہار گیا۔گزشتہ دنوں پاکستانی فوج کی سنیپر فائرنگ کے نتیجے میں مذکورہ بی ایس ایف افسر زخمی ہوا تھا اس واقعہ کے ایک دن بعدسوموار کے روز ایک مرتبہ پھر ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین کنٹرول لائن پر گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔جبکہ منگوار کے روز بھی یہ سلسلہ جاری رہا ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی افواج نے منگوار کو کو ہیرا نگر سندر بنی سیکٹر ،میں کنٹرول لائن پر ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔اطلاعات کے مطابق دونوں طرف کی افواج نے ہیرا نگر سندر بنی سیکٹر ،ا اور دوسرے علاقوں میں چھوٹے اوربڑے ہتھیاروں کا استعمال عمل میں لایا۔حکام کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ضلع پونچھ میں گذشتہ کچھ دنوں سے بھارت اور پاکستانی کی افواج میں گولیوں کا تبادلہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے۔ ہیں۔ادھر دفاعی ذرائع نے پاکستانی فوج پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فوج نے بلا اشتعال ہماری فوجی چوکیوں کو نشانہ بناکر جدید ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں اور مورٹار کے کئی گولے داغے تاہم اس میں کوئی جانی نقصانہیں ہوا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج نے بھی پاکستانی فوجی بنکروں کو نشانہ بناکرجوابی کارروائی کی ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ آر پار گولہ کے نتیجے میں سرحدی علاقوںمیں تنائو اور کشیدگی کا ماحول پھیل گیا ہے اور لوگ خوف وہراس کی فضاء میں اپنے گھروںمیں سہم کے رہ گئے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آر پار گولہ باری کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں برس کے15دنوںمیں سے13دنوں کو ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں اب تک تین سے زیادہ افراد ازجان ہوئے ہیں ۔ ادھر پاکستانی ویب سائٹ پر شائع خبر میں پاکستانی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے شکر گڑھ کے علاقوں میں بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ بھارتی فوج نے ایپال ڈوگر اور کرول ننگل کے علاقوں میں گولہ باری بھی کی۔ بھارتی فورسز کی اس اشتعال انگیزی پر چناب رینجرز نے بروقت کارروائی کی۔بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رواں ماہ لائن آف کنٹرول کے شاہ کوٹ سیکٹر میںفائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون ازجان اور ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتے ہوئے اور سویلین آبادی پر ایک اور حملہ کیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے شاہ کوٹ سیکٹر پر سویلین آبادی کو بلااشتعال اور بلا جواز فائرنگ کرکے نشانہ بنایا۔یاد رہے کہ گذشتہ برس 2018میں ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین جنگ بندی معاہدے کی 2,936بار خلاف ورزی کی گئی ۔

Comments are closed.