بجلی اور پانی کی مکمل بحالی اور ہسپتالوں میں علاج و معالجہ یقینی بنایا جائے/ نیشنل کانفرنس

برفباری کے 4روز بعد بھی کئی علاقے وادی سے کٹے ہوئے

سرینگر/08جنوری: برفباری کے 4دن بعد بھی دور دراز ،پہاڑی اور سرحدی علاقے وادی سے کٹے ہوئے ہیں جبکہ ایسے بیشتر علاقوں میں بجلی کی سپلائی ابھی تک بحال نہیں ہوپائی ہے۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ انتظامیہ میٹنگوں اور ذرائع ابلاغ میں بلند بانگ دعوے کررہی ہے لیکن زمینی صورتحال ان دعوئوں کے عین برعکس ہے۔ آج تک بیشتر دور دراز علاقوں میں نہ تو سڑکوں سے برف ہٹائی گئی اور نہ ہی بجلی اور پانی کی سپلائی بحال ہوپائی ہے، جس سے لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ آج بھی ایسے علاقوں میں لوگ مریضوں کو ہسپتال لیجانے کیلئے گھوڑوں اور چارپائیوں پر کئی کئی میل پیدل چلنا پڑرہاہے۔ ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ کی توجہ تشہیر بازی پر کم اور زمینی سطح پر لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے زیادہ ہونے چاہئے۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر عوام کی راحت رسانی کے اقدامات کی نگرانی کریں۔ اور سرحدی اور دور دراز علاقوں میں متعلقہ انتظامیہ اور فیلڈ سٹاف کو متحرک کریں اور ساتھ ہی ان علاقوں میں غذائی اجناس اور ادویات کا وافر سٹاک پہنچایا جائے۔ انہوں نے محکمہ بجلی کے حکام سے بھی اپیل کی کہ وہ جنگی بنیادوں ایسے علاقوں میں بجلی کی مکمل سپلائی بحال کریں جہاں برفباری سے ترسیلی لائینوں کو نقصان پہنچا ہے اور ساتھ ہی ایسے علاقوں میں پانی کی سپلائی بحال کی جائے جہاں ابھی تک پانی کی سپلائی چالو نہیں کی گئی ہے۔ نیشنل کانفرنس ترجمان نے محکمہ صحت کے حکام پر بھی زور دیا کہ وہ ضلع ہسپتالوں،سب سینٹروں اور دیگر طبی مراکز پر ڈاکٹروں کی حاضری یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ادویات اور دیگر ضروریات ساز و سامان کی دستیابی یقینی بنائے۔

Comments are closed.