راجوری میں حد متارکہ پر جاں بحق فوجی پورٹر کے رشتہ داروں کا میت سمیت احتجاج

فوج کیلئے مزدورں کا کام کرنے والے اپنے کنبے کا واحد سہارا تھا اور اکیلا کمانے والا

سرینگر/27دسمبر: ہندوپاک سرحدی پور کشیدگی کے بیج گذشتہ روز ہوئی ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین راجوی کنٹرول لائن پر فوج کیلئے کام کررہے پورٹر ہلاک ہوا تھا جس کے لواحقین نے آج احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پورٹر کے ورثاء کے حق میں سرکاری ریلیف واگذار کیا جائے ۔بھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین گذشتہ روز کنٹرول لائن پرہوئی فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق پورٹر کے قریبی رشتہ داروں نے جمعرات کو معاوضے کے حق میں احتجاج کیا۔جاں بحق پورٹر کے قریبی رشتہ داروں نے پورٹر کی میت کو لیکر راجوری کے نوشیرہ بس سٹینڈ کے متصل احتجاج کیا۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین فوجی پورٹروں کیلئے ایک مستقل پالیسی کا مطالبہ کررہے تھے، جو آئے دنوں کنٹرول لائن پر گولیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔انہوں نے مرنے والے پورٹر کے بیٹے کے حق میں سرکاری نوکری کا بھی مطالبہ کیا۔بودھ راج نامی فوجی پورٹرضلع راجوری میں کنٹرول لائن پر گذشتہ روز گولی لگنے سے جاں بحق ہوا تھا۔واضح رہے کہ فوجی پورٹر کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص اپنے کنبے کا واحد کفیل تھا اور اس کے مرجانے کے نتیجے میں اس کے اہلخانہ کا پیٹ پالنے کیلئے کوئی نہیں رہا اسلئے ان کے حق میں فوری طور پر وظیفہ واگزار کیا جائے تاکہ ان کا نان نفقہ چالو رہے ۔یاد رہے کہ ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین رواں ماہ میں سخت کشیدگی کے بیچ ریاست جموں و کشمیر کے مابین لگنے والی سرحدوں پر اب تک درجنوں بار گولیوں کا تبالہ ہوا جبکہ رواں ہفتے ہی کپوارہ کے سرحدی علاقے میں پاکستانی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں دو فوجی آفیسر ہلاک ہوگئے تھے اور گذشتہ روز بھارتی فوج کے ساتھ کام کرنے والا ایک پورٹر گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہوا ہے ۔

Comments are closed.