بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات پاکستان کی بڑی خواہش: وزیر اعظم پاکستان

پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کیلئے کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے

سرینگر/25دسمبر: پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات رکھنا چاہتا کی بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قیام امن کے لیے پاکستان کی کوشش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان کی ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کیڈٹس کا اعتماد ملک کے مضبوط دفاع کی علامت ہے. کیڈٹس نے پاکستان کے نظریے اورسرحدوں کا دفاع کرنا ہے، ملکی دفاع میں پاک بحریہ انتہائی موثرکردارادا کررہی ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، سمندروں کے محافظ کے طورپرآپ کوقوم کی توقعات پرپورا اترنا ہوگا اورپاک بحریہ کومزید مضبوط بنانے کے لیے تمام وسائل فراہم کریں گے۔پاکستان کے وزیراعظم خان نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملکوں سے پرامن بقائے باہمی پریقین رکھتا ہے جب کہ قیام امن کے لیے پاکستان کی کوشش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، پاک بحریہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہردم تیارہے، ضرب عضب، آپریشن ردالفساد دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کااعادہ ہے جب کہ خطے کے عوام ترقی اورخوشحالی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی سی پیک سمیت ملک کے تمام بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پر عزم اور پوری طرح چوکنا ہے، پاک چین اقتصادی راہداری کے تناظر میں بحری سیکورٹی مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔۔لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کیلئے کوششوں کا خیر مقدم کیا اور وہ اس مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنے کا خواہاں ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہے کہ بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات بنے رہیں ۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ستر سال بیت گئے، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے تاہم بھارت پاکستان کے خلاف آج بھی بچگانہ حرکتیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے پرامن انداز سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو یقینی بنا کر پر امن انداز سے مسائل کو حل کرنا ہو گا ۔وزیراعظم پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ شمالی وزیرستان بھی ویسا ہی علاقہ ہے۔

Comments are closed.