او آئی سی سے وابستہ اسلامی ممالک ایسی کارروائیوں کو رکوانے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں
سرینگر/19دسمبر: رجب طیب اردگان نے وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں پر سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کو فوری طور پر بند کریں۔ انہوں نے او آئی سی اور دوسرے مسلم ممالک سے اپیل کی ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کو روکنے کیلئے خارجی سطح پر بھارت کو اس بات پر قائل کریں کہ کشمیری مسلمانوں پرروا رکھے مظالم کو ترک کریں۔ انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ خارجی سطح کے تعلقات احتجاجا منقطع کریں۔کرنٹ نیوز آف سروس مانیٹرنگ کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے وادی کشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں پر سخت دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں ملوث ہیں ۔ انہوں نے او آئی سی میں شامل اسلامی ممالک کے سربراہاں سے ا پیل کی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ خارجی معاملات کو منقطع کریں اور بھارت پر زور دیں کہ وہ کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کریں ۔ طیب اردگان نے ترکی کے دارالخلافہ استمبول میں آج ایک سرکاری تقریب کے دوران نامہ نگاروں کی جانب سے پوچھے گئے کشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف جو انسانیت سوز کارروائیاں انجام دی جارہی ہے اس پر مسلم ممالک کو خاموشی توڑنی چاہئے اور بھارت پر زور دینا چاہئے کہ وہ مسلم کش کارروائیاں بند کریں ۔ رجب طیب اردگان نے بھارت پر بھی زور دیا کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کریں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کا مقام ہے کہ دنیا میں جہاں پر بھی مسلمانوں کے خلاف مظالم ہورہے ہیں ان واقعات کواسلامی ممالک خاموشی سے دیکھ رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ صرف مسلمانوں کے خلاف مظالم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا میں جہاں پر بھی مظلوم قوموں کے خلاف طاقت ور ممالک ایسی کارروائیاں انجام دیں تو مسلمان ممالک کو اس بے انصافی کے خلاف آواز اُٹھانی چاہئے ۔ واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان دنیائے اسلام میں بڑی قدرو عزت کے ساتھ دیکھے جارہے ہیں انہوں نے ترکی میں حال ہی میں دوسری مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیابی ملی ہے ۔ رجب طیب ردگان بہت ہی رحم دل اور اسلام پسندشخصیت ہیں انہوں نے اس سے پہلے بھی کشمیر سے متعلق بیانات دیئے ہیں جن میں انہوں نے کشمیر کے حالات پر اپنی آرائی کا اظہار کیا ہے ۔
Comments are closed.