لیبر روم میں نصب GTCمشین کو آپریٹ کرنے کیلئے کوئی ملازم حاضر نہیں، ہسپتال میں داخل مریض ذہنی کوفت کے شکار
سرینگر/18دسمبر /سی این آئی/ وادی کے سب سے بڑے اور ایک لوتے زچہ بچہ ہسپتال لل دید میں حاملہ خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک روارکھا جارہا ہے جبکہ ہسپتال میں قائم لیبر روم میں خواتین مریضوں کے ساتھ بدتمیزی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ لیبر روم میں ایک اہم مشین GTCکو آپریٹ کرنے کیلئے کوئی بھی ملازم دستیاب نہیں ہونے کی و جہ سے مریضوں اور وہاں تعینات نرسوں کے مابین اکثر توتو میں میں دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ مشین کا بلٹ لگانے اور نکالنے کیلئے بھی مریضوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ ایک ایک بیڈ پر دو دو تین تین مریضوں کو رکھا جارہا ہے جس کی و جہ سے حاملہ خواتین کے ساتھ ساتھ ان کے بطن میں پل رہے بچے کیلئے بھی خطرہ پیدا ہوجاتا ہے ۔کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق وادی کے سب سے بڑے ہسپتال جو کہ اپنی نوعیت کا ایک لوتا زچہ بچہ ہسپتال ہے میں حاملہ خواتین اور درد زہ میں مبتلاء خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک رکھے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ہسپتال میں دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مریض اس امید پر آتے ہیں تاکہ انہیں دیگر ضلعی ہسپتالوں کے بنسبت یہاں بہتر سہولیات دسیتاب رہیں گی تاکہ یہاں پہنچ کر مریض اور ان کے تیمار دار اکثر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ او پی ڈی سے لیکر لیبر روم تک مریضوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا جارہا ہے یہ دیکھنے والی بات ہے ۔ او پی ڈی میں سینکڑوں حاملہ خواتین قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہ کر اپنی باری کا انتظار کرتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں شدید زہنی و جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال میں قائم ’’لیبر روم‘‘جہاں پر درد زہ میں مبتلاء خواتین یا ان حاملہ خواتین کو رکھا جاتا ہے جن کی زچگی کا وقت قریب ہوتا ہے اس نازک وقت میں لیبر روم میں ایسی خواتین کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے ۔ وہاں تعینات نرسیں اور دیگر عملہ لیبر روم میں داخل مریضوں کے ساتھ بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور کسی بات سے متعلق معلومات کا صحیح جواب دینے کی بجائے انہیں کئی باتیں سنائی جاتی ہے ۔ سی این آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لیبر روم میں ایک ایک بیڈ پر تین تین مریضوں کو رکھا جاتا ہے جو کہ مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے بطن میں پل رہے بچوں کیلئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے ۔ ادھر لیبر روم میں نصب GTCمشین جس کے ذریعے بطن میں پل رہے بچی کے دل کی دھڑکن اور دیگر اہم حصوں کی حرکت سے متعلق جانکاری ملتی ہے کو چلانے کیلئے بھی کوئی ملازم نہ ہونے کی وجہ سے لیبر روم میں مریضوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ مذکورہ مشین کا بلٹ لگانے اور نکالنے کیلئے بھی کوئی ملازم دسیتاب نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ جس کے باعث درد زہ میں مبتلاء خواتین کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ادھر الٹراسونوگرافی پر معمور ڈاکٹروں کے خلاف بھی کئی مریضوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ لیبر روم میں جو ڈاکٹر صاحبان انہیں الٹراساونڈ اور کلر ڈاپلر کرانے کی ہدایت دیتے ہیں انہیں بلاوجہ الٹراسونوگرافی پر معمور ڈاکٹر دوسرے روز یا بعد میں آنے کو کہتے ہیں ۔ ایک مریضہ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کو لیبر روم میں ڈاکٹرو ں نے کلر ڈاپلر کرانے کو کہا اور جب وہ اپنے تیمار دار کے ہمراہ الٹراساونڈ روم تک پہنچے تو وہاں فائل دیکھے بنا ہی ڈاکٹر نے دو رورز بعد آنے کیلئے کہا جبکہ دوسری مرتبہ جب الٹرا ساونڈ کرانے کیلئے گئے تو دن کے ایک بجے مذکورہ ڈاکٹر نے شام 6بجے آنے کو کہا اور جب شام 6بجے وہاں پہنچے تو ان کا کمرہ بند پڑا تھا اور باہر تالہ چڑھاتھا ۔ 9ویں ماہ ایک حاملہ خاتون کو سیڑیوں سے چڑھنے اور اُترنے اور پیدل چلنے میں کس قدر تکلیف پہنچتی ہے اس بات کا اندازہ شادی شدہ بچوں والی خواتین بخوبی لگاسکتی ہے تاہم مذکورہ لیڈر ڈاکٹر اس بات کو نظر انداز کرکے مریضوں کو بلاوجہ تکالیف کا سامنا کراتی ہے ۔سی این آئی کے مطابق ہسپتال میں داخل مریضوں نے شعبہ صحت کے ناظم سے مود بانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر لل دید ہسپتال میں قائم لیبر روم کے عملہ کو اس بات کا پابند بنائیں کہ لیبر روم میں داخل مریضوں کو زہنی کوفت نہ پہنچائے ۔ کیوں کہ ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ بدسلوکی غیر انسانی اور غیر قانونی فعل ہے اس کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ لل دید ہسپتال میں داخل مریضوں کے ساتھ روا رکھے جارہے جانوروں جیسے سلوک کا سنجیدہ نوٹس لیکر معاملے کی تحقیقات کرائیں ۔ مریضوں نے کہا کہ ایک طرف بیٹی بڑھاؤ بیٹی بچاؤ نعرے لگائے جارہے ہیں تو دوسری طرف قوم کی بہو بیٹیوں کے ساتھ ہسپتالوں میں جو سلوک رواجارہا ہے اس سے قوم شرمندہ ہورہا ہے ۔
Comments are closed.