برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بریکزٹ پر دوبارہ ووٹنگ ہوگی

لندن، 18 دسمبر بریکزٹ معاہدے پرامتحان سے گزرنے والی برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے اس معاملے پر ایوان زیریں دارلعوام میں جنوری کے وسط میں پارلیمنٹ میں ووڑنگ کرانے کا اعلان کیا ہے۔
محترمہ مے نے کہا کہ بریکزٹ معاہدے پر نئے سال کے بعد سات جنوری سے ملتوی بحث شروع کی جائے گی جبکہ اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کرائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاہدے نہ ہونے کی صورت میں تیاری پر بحث کے لئے سینئر وزیر منگل کو ڈاؤٹنگ اسٹریٹ میں صلاح و مشورہ کریں گے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ایکسچیکر کے چانسلر فلب ہیمنڈ بریکزٹ کے لئے برطانیہ کی تیاری میں مدد کرنے کے لئےدو ارب پاؤنڈ اضافی اعلان کریں گے۔
محترمہ تھریسا نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ برطانیہ اگلے سال اگلے سال 29 مارچ کو منظم طریقے سے کو یورپی یونین کو چھوڑ دے گا۔ انہوں نے یورپی یونین کی رکنیت پر ایک اور ریفرنڈم کو منعقد کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان برطانوی لوگوں کے اعتماد کو توڑ دے گا جنہوں نے 2016 ء میں یورپی یونین کو چھوڑنے اور برطانوی سیاست کی ایکتاکو بے حد نقصان سے بچانے کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔
بریکزٹ معاہدے کے بارے میں کنزرویٹو پارٹی کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ نے ایک نئے یوروپی یونین ریفرنڈم سمیت دوسرے متبادل کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو محترمہ تھریسا کو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
حزب اختلاف پارٹی لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربین نے پیر کے روز برطانیہ کی وزیر اعظم پر برطانیہ میں قومی بحران پیدا کرنے کاالزام لگاتے ہوئے پیر کو ہاؤس آف کامنس میں ان کے خلاف دوسراعدم اعتماد کی تحریک پیش کی۔

Comments are closed.