ویڈیو: بادامی باغ چلو کال کو انتظامیہ نے ناکام بنادیا، سونہ وار کی طرف جانے والی شاہرائیں سیل
مائسمہ میں یاسین ملک کی گرفتاری کے بعد تشدد بھڑک اُٹھا، مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے
سرینگر؍17دسمبر: بادامی باغ چلو کال کو ناکام بناتے ہوئے انتظامیہ نے شہر سرینگر کے آٹھ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کئے ۔معلوم ہوا ہے کہ بادامی باغ کی طرف جانے والی شاہراؤں کو کانٹے دار تار سے سیل کیاگیا تھا اور کسی کو بھی سونہ وار کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ لبریشن فرنٹ کے چیرمین اور حریت (ع) کے سربراہان کو پولیس نے گرفتار کرکے تھانے پہنچایا۔ اس بیچ لبریشن فرنٹ کے چیرمین کی گرفتاری کے ساتھ ہی مائسمہ میں تشدد بھڑک اُٹھا جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ جے کے این ایس کے مطابق انتظامیہ نے بادامی باغ چلو کال کو ناکام بناتے ہوئے شہر سرینگر کے آٹھ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق شہر کے رام منشی باغ،رعناواری، خانیار، نوہٹہ، ایم آر گنج اور صفا کدل تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں مکمل پابندیاں عاید ہیں جبکہ مائسمہ اور کرالہ کھڈ تھانوں کے تحت علاقوں میں جزوی طور پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔فوج نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں کی کال پر فوجی ہیڈ کوارٹر کی طرف مارچ سے گریز کریں۔شہر سرینگر میں سبھی علاقوں کے اندر سی آر پی ایف کی اضافی ٹکڑیاں تعینات کی گئی ہیں۔نمائندے کے مطابق مائسمہ میں اُس وقت تشدد بھڑک اُٹھا جب دو روز سے روپوش لبریشن فرنٹ کا چیرمین یاسین ملک ساتھیوں سمیت نمودار ہوئے اور بادامی باغ کی طرف پیش قدمی شروع کی تاہم پہلے سے تعینا ت سیکورٹی فورسز نے یاسین ملک اور اُس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا جس کے ساتھ ہی مائسمہ میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔ نمائندے کے مطابق تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج کیا جس کی وجہ سے مائسمہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں کافی دیرتک افرا تفری کا ماحول پھیل گیا۔ اس دوران حریت (ع) کا سربراہ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے بھی بادامی باغ چلو کال کو مد نظر رکھتے ہوئے رہائشی مکان سے باہر آیا اور کارکنوں سمیت پیش قدمی شروع کی ۔ سیکورٹی فورسز نے میر واعظ مولوی عمر فاروق کو بھی ساتھیوں سمیت احتیاطی طورپر پولیس تھانہ منتقل کیا۔ ادھر مزاحمتی قیادت کی کال کے پیش نظر شمال و جنوب میں سخت ترین ہڑتال کا اثر دیکھنے کوملا۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ، شوپیاں کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں سخت ترین ہڑتال رہا۔ نمائندے کے مطابق پلوامہ ضلع میں کرفیو کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق سیکورٹی فورسز نے پورے جنوبی ضلع پلوامہ کو محاصرے میں لے کر لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ عین شاہدین کے مطابق ذرائع ابلاغ سے وابستہ نمائندوں کو بھی کوریج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ادھر شمالی کشمیر کے سوپور ، بارہ مولہ ، پٹن، حاجن ، سمبل ، کپواڑہ ہندواڑہ میں بھی ہڑتال کا اثر دیکھنے کو ملا تاہم مجموعی طورپر شمالی کشمیر میں حالات بہتر رہے۔ وسطی ضلع بڈگام میں بھی سخت ترین ہڑتال دیکھنے کوملا۔ معلوم ہوا ہے کہ چرار شریف ، پکھر پورہ ، حیات پورہ ، کرالہ پورہ میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر پُر امن احتجاج کیا۔
Comments are closed.