ان کے خلاف اختلاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کیلئے وہ خود ذمہ دار
سرینگر / 13دسمبر: سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ’’مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک اپنے آئینی مرتبے کا احسا س نہ رکھتے ہوئے ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں جس سے اُن کے مرتبے کو نقصان پہنچتا ہے اور سیاستدانوں کو مجبوری پید اہوجاتی ہے کہ وہ اُن کو جواب دیں اور اُن کی نکتہ چینی کریں۔ وہ عام طور پر ایک عام سیاسی شخصیت کی طرح سیاسی اور سماجی مسائل پر لگاتار بولتے رہتے ہیں اور اُن کی نظر میں ساری سیاسی شخصیتیں اور بیوروکریٹ رشوت خور ہیں۔گویا گورنر کی نظر میں رشوت خوری نے سارے سماج کو گھیر لیا ہے اور اُن کی ذات کے بغیر سارا معاشرہ بگڑ گیا ہے۔اس طرح سارے نظام کو خراب اور رشوت خور جتلاکر وہ ایک زبردست غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ میری نظر میں اُن کو رشوت خوری کے انفرادی معاملات کو ہاتھ میں لینا چاہئے اور براہ راست تحقیقات کر کے سزا کا اعلان کرنا چاہئے!ادھر دوسری طرف اُن کو ریاست میں موجود احتسابی کمیشن (State Accountability Commission) کو کالعدم کر کے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان بھی کرنا چاہئے۔اُن کے ساتھ اس سارے اختلاف کے پس منظر کے باوجود مجھے اُن کی رشوت خوری کیخلاف مہم کے ساتھ ہمدردی ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ رشوت خوری نے جموں و کشمیر کے پورے سماج کو برباد کر رکھا ہے ،مگر گورنر صاحب کا تجویز کردہ علاج درست نہیں ہے ، اسلئے اُن کو اس سارے مسئلے کو سمجھ کر علاج کرنے کی قابل عمل تجویز سماج کے سامنے رکھنی چاہئے۔‘‘
Comments are closed.