تاریخی مغل شاہراہ سمیت دیگر نصف درجن شاہرائے ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بند
سرینگر/12دسمبر: بالائی علاقوں میں ہوئی تازہ برفباری کے بعد تاریخی مغل شاہراہ سمیت لائن آف کنٹرول کے نزدیک نصف درجن اہم شاہرائے ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بند پڑی ہوئی ہے تاہم سرینگر جموں شاہراہ گاڑیوں کی آمد رفت بدھ کے روز بھی یکہ طرف جاری رہی۔ اگرچہ کچھ دیر تک ٹریفک کی نقل و حمل روک دی گئی تھی تاہم پھر دوربارہ بحال کی گئی ۔ اورجموں سے سرینگر گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی تاہم مخالف سمیت سے کسی بھی گاری کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔قاضی گنڈ سے کرنٹ نیو ز آف انڈیا کو نمائندے نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہ کہا بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں تین سو کلو میٹر لمبی شاہراہ پر کئی جگہوں پر شاہراہ کی حالت خستہ ہو گئی تھی جس کے بعد محکمہ ٹریفک نے مسافروں کے جان و مال کی حفاظت کے پیش نظر شاہراہ پر صرف ایک طرفہ ٹریفک کی نقل و حمل جاری رکھی ۔نمائندے کے مطابق سوموار کو بھی سرینگر جموں شاہراہ پر صرف ایک طرفہ ٹریفک جاری رہا جس کے ساتھ ہی گاڑیوں کو جموں سے سرینگر کی طرف آنے کی اجازت دی گئی تاہم مخالف سمیت سے کسی بھی گاری کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔نمائندے کے مطابق جموں سے سرینگر کی طرف تمام مسافر و مال بردار چھوٹی بڑی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی ۔ادھر ٹریفک حکام کے مطابق موسم سا زگار رہنے کی صورت میں آج یعنی جمعرات گاڑیوں کو سرینگر سے جموں کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گئی ۔تاہم مسافروں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ سفر کرنے سے پہلے ٹریفک کنٹرول روم سے رابطہ کریں ۔اسی دوران بھاری برف باری کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے کئی دیہات کا رابطہ ہنوز بند پڑا ہوا ہے اور ابھی تک ان کی بحالی یقینی نہیں بنائی گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ کنٹرول لائن کے قریب درجنوں ایسے علاقے ہیں جہاں گزشتہ دنوں برفباری کے بعد راستے بند ہوئے ہیں اور ابھی تک ان کو دوبارہ آمد رفت کیلئے بحال نہیں کیا گیا ۔ ادھر شوپیان سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ تازہ برفباری کے بعد بند پڑی تاریخی مغل شاہراہ ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بند پڑی ہوئی اور ابھی تک اس کو ٹریفک کیلئے بحال نہیں کیا گیا ہے ۔
Comments are closed.