واجپائی نے کہا تھا کہ بھاجپا 2004 الیکشن نہ ہارتی تو کشمیر حل ہوگیاہوتا /عمر ان خان

پاکستان بھارت کے ساتھ پُر امن طورپر رشتے قائم کرنے کا خواہاں ہے

سرینگر؍04دسمبر : پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے مطابق بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اْن سے کہا تھا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی نے2004کا الیکشن نہ ہارا ہوتا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگیا ہوتا۔جے کے این ایس کے مطابق عمران خان نے ٹیلی ویڑن صحافیوں کے ایک گروہ کے ساتھ ایک انٹریو کے دوران اسلام آباد میں کہا کہ بھارت کے سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ کا بھی یہی ماننا تھا۔انہوں نے کہا،”اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کا ایک حل ہے اور دونوں ممالک اس کے قریب تھے ”۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات نہ ہوں تو مسئلہ کشمیر کے جو کئی حل ہیں اْن پر کیسے بحث ہوسکتی ہے۔جب اْن سے کشمیر حل کے فارمولہ کے بارے میں پوچھا گیا تو اْنہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں دو یا تین متبادلوں پر بحث جاری ہے۔ انہوں نے تاہم تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔ عمران خان نے کہا” ابھی اس بارے میں کوئی بات کرنا قبل از وقت ہوگا”۔بھارت کے ساتھ جنگ کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ دونوں ممالک نیوکلیائی طاقت کے حامل ہیں اور اْنہیں جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس ہے۔انہوں نے بھارت کے ساتھ پر امن رشتے قائم کرنے کے عزم کو دہرایا۔عمران خان نے کہا کہ ابھی بھارت جنرل الیکشن قریب ہونے کی بنا پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار نہیں ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر مسئلے کو حل کئے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ مسئلہ کئی سالوں سے لٹکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے پہل کرئے کیونکہ اس مسئلے کی وجہ سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔

Comments are closed.