محمد یاسین ملک علیل ،صورہ مڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل

سرینگر 3 دسمبر : لبریشن فرنٹ کے محبوس و علیل چیئرمین محمد یاسین ملک کو آج ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی ہدایت پرصورہ مڈیکل انسٹی چیوٹ سری نگر میں داخل کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے آج صورہ مڈیکل انسٹی چیوٹ میں یاسین صاحب کا ملاحظہ کیا اور انہیں ہسپتال میں ہی بھرتی کرنے کا مشورہ دیا جس کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔علیل لبریشن فرنٹ چیئرمین کو کمر کی شدید تکلیف کے بعد مورخہ یکم دسمبر کو پولیس نے خیبر ہسپتال پہنچایا تھا جہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم جس میں یاسین ملک کے ذاتی معالج ڈاکٹر اوپندر کول جی بھی شامل تھے نے ان کا ملاحظہ کیا اور ان کے کئی طبی ٹیسٹ کرائے۔ ان کے خون کے نمونے لئے گئے جب کہ ان کا, ECHO, INR USGاور دوسرے ضروری ٹیسٹ بھی کئے گئے۔ تشخیص نے اُن کے دونوں گردوں میں پتھریاں ہونے کا انکشاف کیا جبکہ ان کا آئی این آر بھی معمول کے مطابق نہیںآیا جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انہیں کچھ ضروری ادویات فی الحال نہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے گردوں میں موجود پتھریوں اور ان کی کمر میں شدید تکلیف کی وجہ سے ڈاکٹر اوپندر کول جی کی ہدایت پر ایک سینئر یورولوجسٹ کو بھی کنسلٹ کیا گیا جنہوں نے اس حوالے سے ان کے مذید کئی طبی ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا۔ آج انہیں صورہ مڈیکل انسٹی چیوٹ پہنچایا گیا جہاں شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر نثار احمد ترنبو اور شعبہ یورولوجی کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر سلیم وانی صاحب نے ان کا ملاحظہ کیا اور مکمل صلاح و مشورے کے بعد انہیں ہسپتال میں ہی بھرتی رکھنے کا مشورہ دیا۔ڈاکٹر صاحبان ان کی کمر میں شدید درد، ان کے دل کے ضمن میں آئی این آر ٹیسٹ کے غیر تسلی بخش نتائج نیز ان کے گردوں میں بار بار پتھریاں پیدا ہوجانے اسباب معلوم کرنے کیلئے ان کے کئی ضروری طبی ٹیسٹ کررہے ہیں جن کے نتائج آجانے کے بعد ہی ڈاکٹر صاحبان آئندہ کے علاج و معالجے کا تعین کرسکیں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یاسین صاحب ابھی بھی پولیس کی حراست میں ہیں اور آج پولیس نے ہی اُنہیں صورہ مڈیکل انسٹیچوٹ میں داخل کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ بار بار اور طویل نظربندیوں نے یاسین صاحب کی صحت پر کافی منفی اثرات مرتب کئے ہیں جبکہ ۲۰۱۶ ؁ء سے لگاتار ڈاکٹروں نے حکمرانوں اور قابض انتظامیہ سے انہیں مناسب اور متناسب طبی ماحول مہیا کرنے پر زور دیا ہے لیکن قابض حکمرانوں اور انکی انتظامیہ ڈاکٹروں کی ان سبھی تجاویز کے برعکس حالیہ ماہ و سال میں یاسین صاحب کو بدتر حالات میں جیل اور پولیس تھانوں میں رکھنے پر ہی قانع رہے ہیں۔

Comments are closed.