ویڈیو: جسمانی طور ناخیز افراد کا عالمی دن ، امسال بھی معذور افراد نے یوم سیاہ کے بطور منایا، پریس کالونی میں احتجاج
ڈسبلیٹی ایکٹ کو جلد از جلد لاگو کرنے اور دیگر مطالبات حل کرانے کا کیا زور دار مطالبہ
سرینگر/03دسمبر: جسمانی طور ناخیزافراد کے عالمی دن کو یوم سیاہ کے بطور منانے کے بعد جموں کشمیر ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن نے سرینگر کی پریس کالونی میں پُر امن احتجاج کیا ۔ اسی دوران ضلع کپواڑہ ، پلوامہ اور اننت ناگ میں بھی جسمانی طور نا خیز افراد کی طرف سے احتجاجی جلوس نکلا گیا جس دوران انہوں نے شدید نعرہ بازی کی ۔سی این آئی کو سٹی رپورٹر نے اس ضمن میں اطلاع دی کہ سوموار کی صبح سرینگر کی پریس کالونی میں اس وقت ہماری مانگیں پوری کروں کے نعروں سے گونج اُٹھی جب سینکڑوں کی تعداد میں جسمانی طور ناخیز افراد نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنے مطالبات کو حل کرانے کیلئے نعرہ بازی شروع کی ۔نمائندے کے مطابق اس موقعہ پر مظاہرین نے جم کر نعرہ بازی کی اور الزام لگایا کہ سابقہ حکومتیوں کی طرح موجودہ گورنر حکومت بھی ان کے جائیز مطالبات حل کرنے سے قاصر رہی ۔اس موقعہ پر سٹی رپورٹر سے بات کرتے ہوئے جسمانی طور ناخیز افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈی کیپیڈ ایسوی ایشن کے صدر عبدالرشید بٹ نے کہا کہآج تین دسمبر 2018 جسمانی طور نا خیز افراد کے عالمی دن کو ہم ایک مرتبہ اس لئے یوم سیاہ کے بطور مناتے ہیں اور اپنا احتجاج درج کرتے تھے کیونکہ کوئی سرکار ہمارے مسئلوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی اس سال کو بھی پرانے طریقے پر منانے کی کال دی تھی اور ساتھ ہی ہم نے سرکار کو 2 دسمبر تک کا وقت دیا تھا مگر گورنر انتظامیہ نے اس سے پہلے ہی ہماری ایک اہم مانگ ڈیسبلٹی ایکٹ 2018 کو پاس کیا گیا جس کیلئے ہم گورنر انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہم ان لوگوں کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس میں دلچسپی دے کر اس ایکٹ کو پاس کرنے میں مدد کی ۔ انہوں نے کہا کہ اب اتنا ہی بلکہ اس کے علاوہ بھی ان کے بہت سارے مسائل ہے جن کو حل کرنا لازمی ہے ۔ عبد الرشید بٹ نے اس با ت پر زود یا کہ جو بھی ان کے جائیز مطالبات ہے ان کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ ہم دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور نہ ہو جائیں گے ۔ اسی دوران وادی کشمیر میں بھی جسمانی طور نا خیز افراد کے عالمی دن پر جسمانی طور نا خیز افراد نے ضلعی ہیڈ کواٹروں پر سرکار مخالف احتجاجی جلوس نکالیں گئے ۔
Comments are closed.