پی ڈی پی اور کانگریس کو دفعہ35اے کے دفاع کیلئے باہر سے تعاون دیا جارہا تھا
سرینگر/02 دسمبر: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کی جتنی راہیں کھیلیں گی نیشنل کانفرنس اُس کا خیر مقدم کریگی کیونکہ دونوں ملکوں کی دوستی ہماری ریاست کیلئے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ جس دن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان واقعی دوستی ہوجائیگی اُس دن کشمیر کا مسئلہ خود بہ خود حل ہوجائے گا۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج بارہمولہ میں ایک تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اُن کے ہمراہ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، شمالی زون صدر ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور ضلع صدر جاوید احمد ڈار بھی تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آر پار جموں وکشمیر کے درمیان کھڑی دیوار منہدم کرکے لوگوں کی آواجاہی آسان بنا دی جانی چاہئے، لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے، تجارت کرنے اور دیگر معاملات کی کھلی چھوٹ ہونی چاہئے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات ہونگے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم اقتدار کے مزے لوٹنے کیلئے پی ڈی پی اور کانگریس کو حکومت سازی میں باہری تعاون دینے کیلئے تیار نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ سب 35اے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو درپیش دیگر چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے کیا جارہا تھا۔ نیشنل کانفرنس حکومت میں شامل نہیں ہورہی تھی بلکہ باہری سپورٹ دے رہی تھی۔ اقتدار کبھی بھی نیشنل کانفرنس کی منزل نہیں رہی ہے، شائد آپ کو معلوم ہوگا جب مرکز نے یہاں جگموہن کو گورنر بھیجا تھا میں نے اُس وقت کرسی کو لات ماردی۔ہمارا مقصد لوگوں کی عزت ، بقاء اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کا دفاع کرنا تھا اور اس کیلئے لڑ رہے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی کا الگ راستہ ہے، کانگریس کا الگ اور ہمارا الگ، لیکن ہم ریاست کے مفادات کیلئے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہوگئے تھے، آج آپ جموں وکشمیر بینک کا جو حال دیکھ رہے ہیں ، شائد اس حکومت کے قیام سے ایسا نہیں ہوا ہوتا۔اور ان لوگوں نے ریاستی مفادات کیخلاف جتنے بھی فیصلے لئے ہیں اُن کو ہم کالعدم قرار دیتے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ریاست میں کوئی تھرڈ فرنٹ نہیں ہے، بس چند بھاجپا کے اعلیٰ کار آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں، جو لوگ ہم پر اُنگلی اُٹھا رہے ہیں اور خاندانی سیاست کی رٹ لگا کے رکھی ہے وہ کہاں سے آئے ہیں؟ اُن کو بھی تو اپنے والدین سے سیاست اور عہدے وراثت میں ملے ہیں، اگر ہم خاندانی سیاستدان ہیں تو وہ بھی ہم سے مختلف نہیں۔ اس سے قبل ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دیوان باغ بارہمولہ جاکر مرحوم ایڈوکیٹ غلام محی الدین وانی (اوڑی) کے گھر جاکر تعزیت کی اور ڈھارس بندھائی۔ اس موقعے پر مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت اور کلمات ادا کئے گئے۔ اس موقعے پر ضلع سکریٹری غلام حسن راہی، خواجہ محمد یعقوب وانی، سابق ایم ایل اے سوپور محمد اشرف گنائی ،عبدالرشید ڈار ،ضلع صدر یوتھ منیر بٹ، ضلع صدر خواتین ونگ ایڈوکیٹ نیلوفر مسعود ،ایڈوکیٹ شاہد علی اور عبدالمجید آخون بھی موجود تھے۔
Comments are closed.