سرینگر 30 نومبر: سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ’’میں ہندوستان اور پاکستان کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اُن کو کرگل اور اسکردو روڑ کو بہت جلد کھولنے کیلئے رضامند ہونا چاہئے اور اسی کے ساتھ خاص طور کشمیری پنڈتوں کے احساسات کا احترام کرنے کیلئے تاریخی شاردا مندر کا راستہ بھی کھولنا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ دونوں حکومتوں کو یہ عوامی مطالبہ منظور کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔میں نے کئی بار یہ مسئلہ حکومت ہند کی نوٹس میں لایا ہے اور آج میں نے اس سلسلے میں مرکزی وزیر خارجہ سشما سواراج کو ایک خط لکھا اور اُس میں یہ عوامی ضرورتیں پوری کرنے کی تاکید کی ۔یں نے اپنے خط میں سشما سوراج کو بتادیا کہ کرگل اور اسکردو کے لوگوں کے درمیان قدیم راستہ بند ہونے سے متعلقہ لوگوں کیلئے کافی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں کیونکہ ان دونوں علاقوں کے لوگوں کا مذہب اور ثقافت ایک ہے۔ میں نے سشما جی کو بتایا کہ 1947ء سے پہلے ذائرین لگاتار شاردا مندر جاتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں اُن کو میں نے یاد دلایا کہ جیسا کہ تاریخ میں درج ہے کہ سلطان زین العابدین ، بڈشاہ (کشمیری حکمران ۔1420-1470) نے 11000فٹ بلند رازدانی پہاڑ پیدل طے کر کے شاردا مندر کے تحفظ اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنایا تھا۔میں نے سشما جی کو بتایا کہ کرگل کے لوگ لگاتار کرگل ۔ اسکردو روڑ کھولنے کیلئے مطالبہ کرتے رہے ہیں اور ایسا کر نے کیلئے حکومت ہند کو کوئی دشواری نہیں ہے ۔اس لئے حکومت ہندکو اس سلسلے میں مناسب قدم اٹھانا چاہئے۔میں نے خط میں یہ بھی بتایا کہ مجھے باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو اس سلسلے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں ہے ۔اسی طرح میں نے وضاحت سے سمجھایا کہ قدیم شاردا مندر کا راستہ کھولنے کیلئے اور متعلقہ لوگوں کے احساسات کا احترام کرنے سے ہزاروں لوگوں کے دلوں میں راحت پیدا ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ سشما سوراج جی اس سلسلے میں قدم اٹھائے گی۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.