جموں کشمیر میں اردو تحقیق کے مسائل،یکہ روزہ اردو ریسرچ اسکالرز قومی سمینار
سرینگر 30 نومبر : سینٹرل یو نیورسٹی آف کشمیر کے نوگام کیمپس اول میں جمعہ کو اردو ریسرچ اسکالرز قومی سمینارکا انعقاد کیا گیا۔ اس سمینار میں مختلف یونی ورسٹیز کے ریسرچ اسکالرز نے حصہ لیا۔سمینار کے افتتاحی اجلاس کا آغاز مشرقی اقدار کے مطابق تلاوتِ کلام پاک اور بعد ازاں نعت پاک سے ہوا۔سمینار کے خیر مقدمی کلمات شعبۂ اردو کے سربراہ ڈاکٹر پرویز احمد اعظمی نے ادا کیے اور سمینار میں آئے ہوئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔اس کے بعد پروگرام کے ناظم نے سمینار کے اغراض و مقاصد کے لیے شعبے کے ریسرچ اسکالرز شعیب احمد وانی کو دعوت دی۔وانی نے اس سمینار کو ان معنوں میں منفرد قرار دیا کہ بڑے سمیناروں میں ہم ریسرچ اسکالرز کو اپنے مقالات پڑھنے کا موقع نہیں ملتا جب کہ ہمیں اس کی خاص ضرورت ہوتی ہے۔ اس سمینار سے ہماری ذہن سازی ہوگی جو ہمای تربیت کے لیے کئی معنوں میں اہم ہوگی۔ افتتاحی اجلاس کے مہمانِ ذی وقاراور وادی کے ماہر لسانیات پروفیسر نذیر احمد ملک نے تحقیق کے مسئلے پر اپنے پرمغز خیالات کا اظہار کیا، جس کی شرکائے سمینار نے کافی پذیرائی کی۔ملک صاحب کے بعد وادی کی فعال اور ساہتیہ اکادمی یافتہ اور ممتاز انشائیہ نگار شخصیت پروفیسر محمد زماں آزردہ نے حاضرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے تحقیق کے مسائل پر اپنے گرانقدر خیالات کا اظہار کیا اور یہ بھی بتایا کہ اردو تحقیق کے چار ستون ہیں اور حسنِ اتفاق سے انہیں چارو سے سیکطنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد اظہار تشکر کے لیے شعبے کے ریسرچ اسکالر ربانی بشیر کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد چائے کے وقفے کے بعد پہلے تکنیکی اجلاس کا آغاز ہوا ،جس کی صدارت ڈاکٹر راشد عزیز ، جناب غلام مصطفی اور ڈاکٹر رخسانہ رحیم نے کی۔ اس اجلاس میں ۷ ؍ریسرچ اسکالرز نے اپنے اپنے مقالات مختلف موضوعات پر پیش کیے ۔ دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر پرویز احمد اعظمی اور ڈاکٹر الطاف حسین نقشبندی نے کی۔ اس اجلاس میں کل ۹؍ مقالات مختلف موضوعات پر پیش کیے گئے۔مجموعی اعتبار سے آج کا یہ سمینار بہت کامیاب سمینار قرار دیا گیا اور مقالہ نگاروں نے موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی پوری کوشش کی۔
Comments are closed.