سرینگر29نومبر : ڈی پی این صدر غلام حسن میر، پی ڈی ایف صدر حکیم محمد یاسین اور سی پی آئی ایم رہنما محمد یوسف تاریگامی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہاہے کہ ریاستی گورنر نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد کہاتھاکہ نظام میں کرپشن اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی لیکن کئی مہینے گزرنے کے بعد یہ لگتاہے کہ کرپشن کم نہیں بلکہ اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور زمینی سطح پر لوگ مایوس نظر آرہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آج بھی وہی حالات پائے جارہے ہیں جو پی ڈی پی ۔بی جے پی دور حکومت میں تھے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات صاف پانی م، بجلی اور راشن کی قلت کاسامناہے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی کے شعبے میں کشمیر کے حالات بد سے بدتر ہوچکے ہیں اور محکمہ غیر اعلانیہ کٹوتی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکاہے ۔ انہوں نے کہاکہ شدید سردی ہونے سے قبل ہی محکمہ کو صورتحال میں بہتری کے اقدامات کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے دعوؤں کے باوجود حکمرانی کے نظام میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا اور حقیقت یہ ہے کہ آج بھی وہی حالات ہیں جو گزشتہ سال درپیش تھے ۔مشترکہ بیان میں تینوں لیڈران نے کہاکہ بیروزگار ی عروج کو پہنچ گئی ہے جس کا سدباب نکالنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاجارہا اور لیبر بیرو،وزارت برائے محنت و روزگار کے مطابق جموں وکشمیر میں ملک بھر کے مقابلے بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ پائی جارہی ہے اور2015-16میں اس بیرو کی طرف سے کئے گئے سروے میں پتہ چلاکہ ریاست میں ایک ہزار افراد میں سے 72افراد بیروزگار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح سے 2011کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں بیروزگارافراد کی تعداد نو لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ریاست میں بیروزگاری ایک حقیقت ہے اور اس کے نتیجہ میں نوجوانوں میں زبردست ذہنی دباؤ اور پریشان حالی کی کیفیت پائی جارہی ہے ۔عام شہریوں کی ہلاکتوں کے سلسلے پر فوری روک لگانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تینوں لیڈران نے کہاکہ وہ مارے گئے افراد کے لواحقین کے ساتھ دکھ کی گھڑی میں برابر کے شریک ہیں ۔انہوں نے کہاکہ شہریوں کی ہلاکت کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں اور چاہے شہری ایک بندوق سے مرے یا دوسری بندوق سے لیکن یہ قیمتی انسانی جان کا ضیاں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہلاکتوں سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا اور کشمیری ہی متاثر ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ مزید ہلاکتیں مسئلے کا حل نہیں ہوسکتی بلکہ اس کیلئے ضروری ہے کہ اعتمادسازی کے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور لوگوں خاص کر نوجوانوں میں پائے جارہے غم و غصہ کو ختم کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ حالیہ غیر متوقع برفباری نے کشمیر میں پھلوں کے شعبے کو زبردست نقصان پہنچایا جس پر اگرچہ حکومت کی طرف سے ریلیف کا اعلان بھی کیاگیاہے لیکن یہ نقصان کے حساب سے بہت کم ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس شعبے کی ترقی کیلئے کل وقتی اقدامات کئے جائیں اور کسانوں کے کے سی سی قرض معاف کئے جائیں ۔تینوں لیڈران نے کہاکہ ڈیلی ویجروں، کیجول لیبروں، آشاورکروں اور مڈ ڈے میل ورکروں کو یکسر نظرانداز کردیاگیاہے اورڈیلی ویجروں و کیجول لیبروں کی مستقلی کی دیرینہ مانگ پوری نہیں کی جارہی اور حد یہ ہے کہ انہیں معمولی سا مشاہرہ بھی وقت پر نہیں ملتا۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس سلسلے میں ایس آر او بھی جاری کیا لیکن ابھی تک یہ عارضی ملازمین مستقل ملازمت کے انتظار میں ہیں اور یہ عمل مایوسی کا شکار ہے۔انہوں نے کہاکہ آشا ورکروں اور مڈ ڈے میل ورکروں کو بھی مہینوں سے معمولی مشاہرہ نہیں دیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ کچھ آنگن واڑی ورکر بیوائیں ہیں جن کے گھروں کا سارا نظام انہی پر منحصر ہے جن کا مشاہرہ بند کرکے حکومت نے انہیں پریشانی میں ڈال دیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ان ورکروں کے احتجاج کی وجہ سے حکومت ان کے مشاہرے میں اضافہ کرنے پر تو مجبور ہوئی مگر پنشن اور سماجی تحفظ کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے ۔انہوں نے بیواؤں، یتیموں، بے سہاراافراد ، معذوروں اور بزرگ افراد کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر اس سلسلے میں ذاتی مداخلت کرکے ان کی پنشن واگزار کرائیں اور ضلع دفاتر میں التوا میں پڑی فائلیں منظور کی جائیں ۔انہوں نے کہاکہ ایسے ہزاروں معاملات التوا میں پڑے ہیں اور ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔جموں وکشمیر بینک کو حق اطلاع قانون کے تحت لانے کے اقدام کی سراہنا کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاستی انتظامی کونسل کے بین کو پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ بنانے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.