غیر آئینی اور غیر جمہوری طور برخواست کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چلینج کرنا چاہئے/سوزؔ

سرینگر/24نومبر: سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزؔ، نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست جموںوکشمیر کی مین سٹریم جماعتوں جس میں پی ڈی پی کے ساتھ بشمول نیشنل کانفرنس ،کئی اور جماعتیں ریاست میں ایک جمہوری اور عوامی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے جس کیلئے اُن کو پورا منڈیٹ بھی حاصل تھا، گورنر نے نہایت تیز رفتاری اور عجلت سے ریاستی اسمبلی کو غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے تحلیل کر کے اُس عوامی اقدام کو ناکام بنا دیا۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب بی جے پی نے غیر جمہوری طریقے سے اروناچل پردیش میں 13 جولائی 2016ئ؁ کو اور اتراکھنڈ میں 27 مارچ2016ئ؁ کو غیر آئینی طریقے سے صدر راج نافذ کیا تھا ، تو گانگریس پارٹی نے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف فوراً سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی اور اُس عرضیوں پر سپریم کورٹ کے سامنے صحیح دلائل پیش کئے گئے تھے جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے دونوں موقعوں پر دونوں گورنروں کے عجلت میں غیر آئینی طور لئے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔ سوز نے کہا کہ گورنر ستیہ پال ملک نے جو زبردست عجلت میں ریاستی اسمبلی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ لیا ہے ، اُس کو ہر صورت میں سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے گی بشرطیکہ پی ڈی پی فوراً سپریم کورٹ میں گورنر کے غیر آئینی فیصلے کو چلینج کرے۔انہوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ گورنر ستیہ پال ملک کے غیر آئینی اقدام کو کالعدم قرار دے گی۔ میرا یہ اندازہ ہے کہ آر ایس ایس ۔ بی جے پی کے بغیر باقی مین اسٹریم جماعتیں پی ڈی پی کی حمایت کریںگے اور اُس کے علاوہ ملک کا رائے عامہ بالخصوص ریاست جموںوکشمیر کا رائے عامہ اُس اقدام کی حمایت کرے گا۔ ‘‘

Comments are closed.