علمائاور اسکالرز کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کی رہنمائی کریں
سرینگر/21نومبر: پیغمبر آخر زماں نبی اکرم ﷺ سارے جہانوں کے لئے رحمت ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ ہم نے سلامتی والے دین کو خوف کی علامت بنا دیاہے کی بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اختلاف رائے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے گلے کاٹے گئے، ہماری مسلسل کوششوں سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بند ہو گیا ہے اور علما کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کی رہنمائی کریں۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق عالمی سیرت النبی ؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نبوت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا جو حضرت محمد ؐپر پہنچ کر اختتام پزیر ہوا، اس دوران انسانی زندگی نے ارتقا کے بہت سے مراحل طے کئے، تہذیب نے بہت سے رنگ بدلے، علم کی دنیا میں نئے نئے خیالات اور نظریات نے جنم لیا، اس ارتقائی سفر نے انسان میں وہ صلاحیت پیدا کر دی کہ اب وہ آسمانی ہدایت کو پوری گہرائی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا اور اس کی روشنی میں ایک نئی دنیا تعمیر کر سکتا تھا۔ تاریخ کے اس مرحلے پر اللہ رب العزت نے اعلان فرمایا کہ میں نے اب دین کی تکمیل کردی ہے، اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔خان نے کہا کہ حضرت محمد ؐ پر بعثت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ان کے پیغامات اور عمل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری امت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ؐکی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے، امن و ترقی کی منزل نبی اکرم ؐ کے نقش قدم پر چلنے اور ان کی سنتوں پر عمل کرنے سے ہی مل سکتی ہے، جو نبی اکرم ؐ کے سنتوں پر چلے گا جنت اسی کا مقدر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ؐ نے حق کی شہادت دی اور پھر یہ ذمہ داری امت کو سونپ دی گئی کہ وہ اس حق کی گواہ بن کر کھڑی ہو جائے، صحابہ کرام اور اہل بیت نے اس حق کی گواہی دی، پھر ہمارے اسلاف نے یہ ذمہ داری اٹھائی اور تاریخ نے آج یہ فرض ہمیں سونپا ہے۔ ہم دین اسلام کے وارث ہیں لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے متعلق جاننے کے لئے ہمیں رحمت
العالمین ﷺکی طرف رجوع کرنا ہو گا۔وزیراعظم خان نے کہا کہ سرور عالم ؐ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو انہوں نے پہلے معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں مسلمان بھی تھے اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے، آپ ؐ نے سب لوگوں کے ساتھ معاہدے کئے اور سب لوگوں نے اپنی مرضی سے ان معاہدوں کو قبول کیا، تاریخ اسے میثاق مدینہ کے نام سے جانتی ہے اور بہت سے اسکالرز اسے دنیا کا پہلا تحریری آئین قرار دیتے ہیں۔ پھر مکہ فتح ہوا اور آپ ؐ کا برپا کیا ہوا انقلاب اپنی منزل مراد تک پہنچا، دنیا سے رحلت فرمانے سے چند ماہ پہلے خاتم المرسلین ؐنے پہلا اور آخری حج کیا اور ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا، اس موقع پر آپ نے دنیا کے سامنے انسانی حقوق کا عالمی چارٹر پیش کیا، اس طرح آپ ﷺ جدید انسانی تاریخ کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ایک ریاست کو آئین کے تشخص سے روشناس کرایا۔ آج 1400 سال بعد تہذیب کے ارتقا نے انسان کو اسی جگہ لا کھڑا کیا ہے اور ساری دنیا اس پر متفق ہے کہ ریاست کو قائم رکھنے کے لئے ایک آئین کی ضرورت ہے۔ معاہدے انسانی تاریخ میں پہلے بھی ہوتے رہے لیکن اللہ کے آخری نبی ؐ نے اسے ایک ضابطے اور اخلاق کا پابند بنا دیا، آج دنیا آپﷺ کے قدموں کے نشانوں سے اپنی ترقی کی منازل ڈھونڈنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ؐ تو سارے جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے اور انہوں نے تو امن و محبت کا درس دیا لیکن بدقسمتی ہے کہ ہم نے سلامتی والے دین کو خوف کی علامت بنا دیا اور اختلاف رائے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے گلے کاٹے گئے، ہماری مسلسل کوششوں سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بند ہو گیا ہے اور علما کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کی رہنمائی کریں۔
Comments are closed.