1947کے رفیوجیوکو اقامتی اسناد فراہم کرنے کی بازگشت پھر امور داخلہ کے وزیر مملکت کے بیان پر کئی سیاسی پارٹیاں ناراض

سرینگر/25اگست// 1947کے رفیوجیوکو اقامتی اسناد فراہم کرنے کے امور داخلہ کے وزیر مملکت کے بیان نے ریاست میں پھر سے سیاسی گلیاروں میں سرگرمیاں تیز کر دی اور کئی سیاسی پارٹیوں نے وزیر مملکت کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر ریاست کے حساس معاملات کو چھیڑ کر لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا نے کی کوشش کی جا رہی ہیں ۔ اے پی آئی کے مطابق  آرٹیکل 35(A) کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گشت ابھی عروج پر ہی تھی کہ امور داخلہ کے وزیر مملکت نے 1947کے رفیوجیوں کو اقامتی اسناد فراہم کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں ریاست کی مخلوط حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ 1947میں ریاست جموں و کشمیر میں پناہ لینے والے رفیوجیو کو اقامتی اسناد فراہم کرنے کے معاملے کاازسر نو جائزہ لیا جانا چاہیے ۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت نے کہا کہ اقامتی استاد کا تعلق صرف شناخت تک ہی ہے اور اس سے 1947کے رفیوجی ریاست جموں و کشمیر کے مستقل باشندے تصور نہیں کئے جائیں گے تاہم وزیر مملکت کے بیان پر ریاست کی کئی سیاسی پارٹیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں آبادی کے تناسب کو بگاڑ کر کشمیر مسئلے کی ہیت کو تبدیل کرنے کے منصوبے کو آخری شکل دی جا رہی ہے ۔ کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے امور داخلہ کے وزیر مملکت کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2016میں بھی پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے رفیوجو کو اقامتی اسناد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی جس کے ریاست میںمثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے اور اکثریتی طبقہ نے ہمیشہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ لیڈروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مرکزی حکومت نے 1947کے رفیوجیو کو اقامتی اسناد فراہم کرنے کی کوئی کوشش کی تو اس کے خلاف عوامی مہم شروع کی جائیگی جس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہو گی ۔ادھر امور داخلہ کے وزیر مملکت نے جموں میں 1947اور1971کے رفیوجیو کیلئے باز آبادکاری تقریب پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ہند نے رفیوجیو کی بازآبادکاری کیلئے 2000کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور 36384کنبوں کو ایک وقت کی امداد فراہم کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقداما ت اٹھا ئے جائیں گے تاکہ رفیوجیو کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا ازالہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ رفیوجیو کی سہولیت کیلئے جموں ،کٹھوعہ ، سامبہ اور ادھمپور میں خصوصی سیل قائم کی گئی ہے جہاں رفیوجی اپنا اندراج کر کے امداد کی رقم حاصل کر سکیں گے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنا آردھار کارڈ بینک کھاتوں کے ساتھ رکھے تاکہ انہیں جلد سے جلد امدادی رقم فراہم کی جا سکے ۔

Comments are closed.