سب ضلع اسپتال سوپور معاملہ، انکوئری محض ایک بہانہ ، حکومت صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور ناکام :۔ ایم ایل اے سوپور

سرینگر//سب ضلع اسپتال سوپور میں ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف ابھی تک کوئی مناسب کاروائی نہیں کی جارہی ہے تفصیلات کے مطابق ایس ڈی ایچ سوپور میں ماہر امراض اطفال (پیڑیٹرشن )کی مبینہ لاپرواہی میں انکوائری کے باوجود متعلقہ حکام نے اس انتہائی اہم عوامی شکایت کے حوالے سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ذرائع نے تعمیل ارشاد کو بتایا کہ اس سے قبل ڈائریکٹر ہیلتھ سروس کشمیر ڈ اکٹر سلیم الرحمان نے تین ڈاکٹروں پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جنہوں نے اس سلسلے میں زبانی ریپورٹ پیش کی ۔ذرائع نے بتایا کہ 11 اگست کو داکٹروں کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے ایک نوزائدہ بچے کی موت اور اس کے تیسرے دن بعد مبینہ طبی غفلت میں ٹھہرائے گئے ذمہ دارڈاکٹروں کو بچانے کی ایک واضح کوشش کی جارہی ہے کیونکہ ابھی تک انکوائری کمیٹی نے کوئی تحریری رپورٹ طلب نہیں کی ہے۔ .
ادھر سول سوسائٹی سوپور نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی طرف سے نا معلوم وجوہات کی بنا پہ کئے جارہے تاخیر کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔جنرل سیکریٹری سول سوسائٹی نے تعمیل ارشاد سے بات کرتے ہوئے بتایا’’ کہ چند دن قبل ہم ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر سلیم رحمان کے پاس گئے جنہوں نے ہمیں یقین دلایا کہ اس سلسلے میں وہ جلد ہی تحقیقات کرینگے اور ہماری شکایات کو حل کرینگے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اُٹھائے گئے۔ ‘‘ انہوں نے مزید بتایا سول سوسائیٹی سوپور ان داکٹروں کو کام کرنے کی قطعی اجازت نہیں دے گی جب تک ہمارے مسائل کو حل کیا جائیگا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ وہ طبی لاپرواہیوں میں ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کریں۔ ا س ضمن میں جب ہم نے متعلقہ ایم ایل اے حاجی عبدا لرشید ڈار سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا ’’ سرکار صحت کی دیکھ بال کے نظام کو بہتر بنانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں پہلے ہی متعلقہ ریاستی وزیر بالی بگھت کو آگاہ کیا ہے تاہم انہوں نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ سرکار اپنی خواہش کے مطابق افسران کی تقرری انجام دیتی ہیں جس وجہ سے کام ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا ہے اور نظام میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز میرا فون اُٹھانا مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔ جب ایک ایم ایل اے کی شکایت پہ عمل نہیں کیا جاتا ہے تو ایک عام انسان کی شکایات کا کیا ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ اس وقت حکومت کی نوٹس میں آیا ہے جب ضلع اسپتال سوپور عوامی شکایت کے حوالے سے خبروں میں چھایا رہا۔نوزائدہ بچے کے والدین کی شکایات پہ مبنی ریپورٹس اخباروں میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ شکایت سیل نے فوری طور پرمعاملے کو سنجیدگی سے لیا۔مذکورہ سیل نے ڈائریکٹر صحت سے اس حوالے سے پہلے ہی ریپورٹ طلب کی ہے۔ مذکورہ سیل کے مطابق اس معاملے کو متعلقہ بلاک میڈکل آفیسر نے بھی اُٹھایا ہے اور انہوں نے بھی ڈاکٹروں کے مبینہ غیر ذمہ دارانہ روئے کے خلاف ریپورٹ طلب کی ہے۔ اس ضمن میں جب تعمیل ارشاد نے منسٹر برائے صحت و میڈکل ایجوکیشن بالی بگھت اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز داکٹر سلیم الرحمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہ بات کرنے کے لئے موجود نہیں تھے۔

Comments are closed.