اردو کو ایک لازمی مضمون قرار د ئیے جانے کی مانگ اس زبان میں کوئی بات جس موثر انداز میں پیش کی جاسکتی ہے، وہ کسی زبان میں ممکن نہیں۔وحشی سعید

سرینگر//آ ٹھویں جماعت تک اردو کو ایک لازمی مضمون قرار د ئیے جانے کی مانگ کرتے ہو ئے معرو ف تاجر ادیب اور افسا نہ نگار وحشی سعید نے کہا ہے کہ اردو بنیادی طور پر پورے بر صغیر کی زبان ہے لیکن مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس زبان میں کوئی بات جس موثر انداز میں پیش کی جاسکتی ہے، وہ کسی اور زبان میں ممکن نہیں۔سی این ایس کے ساتھ بات کرتے ہو ئے نگینہ انٹرنیشنل کے چیف ایڈیٹر محمد سعید ترمبو عرف وحشی سعیدنے ریاست جموں وکشمیر میں اردو زبان کے وجود کے اوراق پلٹتے ہو ئے کہاکہ ریاست میں اردو زبان مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں پھلی پھولی اور مہاراج پر تاپ سنگھ کے دور1889میں یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس زبان کی وجہ سے ریاست کا تعلق ہند وستان کی دوسری ریاستوں سے ہوا اور اس زبان نے بھارت کی صدیوں پرانی تہذ یب اور تاریخ کو اپنے اندر سیمٹا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے مستقبل کے تئیں وہ پرامید ہیں۔ اردو زبان کی مقبولیت میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور ہندوستان بشمول پوری دنیا میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک اہم تجربے کے دور سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ اگر ہم اردو کوصرف مسلمانوں کی زبان قرار دیں گے تویہ ایک بڑی اردو آبادی کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اردو بنیادی طور پر پورے برصغیرکی میٹھی زبان ہے اور صرف مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ سر ینگر کے کرن نگر علاقہ سے تعلق رکھنے والے وحشی سعید نے کہا کہ ارود وہی زبان جس نے ہند وپاک کو آزادی سے ہمکنار کرنے میں اہم ترین رول ادا کیا ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معجزاتی طور پر اس زبان کی دن دو گنی رات چوگنی ترقی ہورہی ہے اور اس کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو روزگار سے جڑی ہوئی زبان نہیں ہے بلکہ یہ اس خوبصورت اور شیریں زبان کے لئے منفی پروپیگنڈہ ہے ۔ افسا نہ نگار وحشی سعیدنے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں علم وادب کو فروغ دینے کیلئے کئی قدیم وجدید سرکاری وغیر سرکاری سرگرم ہے کچھ اداروں کا کام واقعی قابل تحسین ہے اور کچھ اداروں کو اردوزبان اور ادب کی ترقی وترویج سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے مانگ کی اس زبان کو ریاست جموں وکشمیر کے تمام اسکولوں میں میڈل پاس تک لازمی قرار دی جانے چاہیے کیونکہ یہ ریاست کی سرکار زبان ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ارد و شنا سی پیداکی جانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس زبان میں کوئی بات جس موثر انداز میں پیش کی جاسکتی ہے، وہ کسی اور زبان میں ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردوزبان وادب کی خدمت میں عرصہ دراز سے سرگرم عمل ہیں اور یہ سلسلہ آ ج بھی جاری ہے۔ خیال ر ہے کہ آدب نوازوں کے قدر د ان وحشی سعید ریاست جموں وکشمیر کے افسا نوی ادب کا ایک اہم دستخط ہے ۔ وحشی سعید کے اب تک جو افسانوی مجموعے اور ناول منظر عام پر آ ئے ہیں ان میں’’ ان میں سڑ ک جارہی ہے‘‘ کنوارے الفاظ کا جزیر ہ، خواب اور حقیقت اور پتھر پتھر آ ئینہ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے افسا نوی مجموعی میں گردوپیش کے حالات واقعات اور مسائل کو موضوع بنایا ہے اور بیشتر افسانوں میں انہوں نے سماج میں پھیلی برائیوں کو منظر عام پر لایا ہے۔ سڑ ک جارہی ہے کا پہلا افسانہ پوش پبلشنگ ہاوس سرینگر نے شا ئع کیا تھا پھر یہ مجموعہ دوبارہ تحریک اد وارنسی کے تعاون سے2014 میں شائع ہوا جس میں تیس افسانے شامل ہیں۔ وحشی سعید نے میٹر ک سر ینگر ٹنڈن بسکو اسکول سے1923میں میٹر ک پاس کیا یہی سے ان کا ادبی سفر شروع ہوا۔ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد انہوں نے ایس پی کالیج میں بے ا ے کی ڈگر ی حاصل کی۔ بعد میں وہ و حشی نے کشمیر یونیورسٹی میں1971 ایم اے ارود کی سند پروفیسر عبدالقادر سروری، پروفیسر شکیل الرحمن اور پر وفیسر حامد کشمیر ی کی رہنمائی میں حاصل کی۔

Comments are closed.