سرینگر// دفعہ370اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ختم کرنا آر ایس ایس اور دیگر بھگوا جماعتوں کا بنیادی ایجنڈا رہا ہے ، ماضی میں ان فرقہ پرست جماعتوں کے منصوبے کامیاب نہیں ہوپاتے تھے لیکن مرکز اور ریاست میں بھاجپا کی حکومتوں کے قیام سے نہ صرف ان کے حوصلے بلند ہوئے بلکہ ان کی درپردہ پشت پناہی بھی کی گئی۔ یہ لوگ پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ذریعے دفعہ370اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ختم نہیں کرسکتے اس لئے عدلیہ کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اور دفعہ35Aکیخلاف مفادِ عامہ عرضی دائر کی گئی ، جوجموں وکشمیر کے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو بھارت کے آئین میں جگہ فراہم کرتی ہے۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاوق عبداللہ نے آج اپنی رہائش گاہ پر کولگام کے عہدیداروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے۔ میٹنگ میں ضلع صدر کولگام و ایم ایل اے ہوم شالی بگ ایڈوکیٹ عبدالمجید بٹ لارمی اور صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ دفعہ35Aجموں وکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون ، نوکریوں ، سکالرشپوں اور دیگر مراعات کی ضامن ہے اور اس دفعہ کو ختم کرنے سے یہاں کی پہنچان اور انفرادیت ختم کرنے کی مذموم کوششیں کیں جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے خاتمے سے صرف وادی کشمیر کو ہی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ اس سے کشمیری، ڈوگری ،لداخی، پہاڑی اور گوجری کلچر کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام دفعہ35Aکیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دیں گے، مرکز اس دفعہ کیساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے آگ کیساتھ کھیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر کے متعلق کل جو بیان دیا اُس پر عملدرآمد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کشمیریوں کو زبانی جمع خرچ سے مزید بہلایا اور پھسلایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیرا عظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ان الفاظ پر عمل بھی کیا جائے۔کشمیری کبھی غلام تھے اور نہ کبھی غلام رہیں گے، جموں وکشمیر بھارت میں مدغم نہیں ہوا ہے بلکہ مہاراجہ ہری سنگھ کا الحاق صرف 3شرائط پر تھا۔ مرکزی لیڈر شپ اور سرکار کو مل بیٹھ کر اس مشروط الحاق کے تقدس کو بحال کرکے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن مکمل طور پر بحال کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نریندر مودی کو واجپائی اور منموہن سنگھ کے نقش قدم پر چل کر خطے میں دیرپا امن کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئے اور ان دونوں لیڈران کی طرح پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ واجپائی کے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘نعرہ پر عمل کرکے کشمیریوں کو ساتھ لیکر آگے چلنا چاہئے۔ مرکز سرکار ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ کرکے کشمیریوں کو ساتھ لیکر نہیں چلی سکتی۔ گورکھشا کے نام پر ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ اس صورتحال کیلئے بھاجپا لیڈر شپ کافی حد تک ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرا عظم نے فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا اعتراف کیا ہے، انہیں چاہئے کہ وہ عملی اقدامات کرکے اس رجحان کو مزید بڑھنے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ بھارت کی آزادی کیلئے مسلمانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں ہیں، افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش کیا جارہاہے۔ بھارت چھوڑ دور تحریک میں مسلمانوں کا سب سے اہم رول رہاہے۔ ’بھارت چھوڑ دور تحریک ‘ کا نعرہ ممبئی کے ایک مسلمان آزادی پسند رہنما نے دیا تھا، ترنگے کا تصور ایک مسلم خاتون نے دیاتھا لیکن میڈیا میں جو زہرافشائی کھلے عام چل رہی ہے اُس سے مسلمانوں کو دشمنوں کے بطور پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی نئی پود کو موجودہ میڈیا پر یقین کرنے کے بجائے آزادی میں مسلمانوں کے رول کا تاریخ میں مطالعہ کریں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی عہدیداروں اور لیڈران پر زور دیا کہ وہ دفعہ35Aسے متعلق جانکاری مہم آگے چلائے اور متحدہوکر کشمیر کی پہچان کی حفاطت کریں۔
Comments are closed.