لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلاء، ڈویژنل کمشنر کشمیر اور پی ایچ ای چیف انجینئرسےاپیل
پٹن:سنگھ پورہ پٹن کےلئے فراہم کردہ پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے لوگ کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلاءہوگئے ہیں جبکہ لوگ اپنی نجی گاڑیوں کا استعمال کرکے سرینگر یا پٹن سے پینے کےلئے پانی لانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔
سنگھ پورہ کےلئے قائم فلٹریشن پلانٹ ایک پہاڑی پر واقع ہے جہاں پلانٹ میں کئی موزی جانور موج مستی کرتے رہتے ہیں ۔ محکمہ یا ضلع انتظامیہ کا کوئی بھی آفسیر آج تک پلانٹ کا جائزہ لینے کےلئے نہیں گیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے سنگھ پورہ پٹن قصبہ میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کو لیکر زبردست شکائت ہے ۔ مقامی لوگوں کےمطابق سنگھ پورہ کے کنسوکالونی، میر گنڈ، بل ہارن ، یکسون پورہ ، کھنہ پٹھ ، رنبل اور چنار کالوں کے علاوہ دیگر درجنوں علاقہ جات ہے جن کےلئے پانی کی فراہمی کے واسطے پریہاس پورہ پٹن کی ایک پہاڑی پر فلٹریشن پلانٹ قائم کیا گیا ہے اور محکمہ پی ایچ ای مذکورہ علاقوں کےلئے اسی فلٹریشن پلانٹ سے پانی سپلائی کرتا ہے
تاہم پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے لوگ کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلاءہوچکے ہیں خاص کر لوگوںکی بڑی تعداد انتڑیوں کی بیماریوں میں مبتلاءہونے کےساتھ ساتھ گردوں کی پتھریوں کے مہلک مرض میں بھی ہوئے ہیں جبکہ نہانے کےلئے استعمال کرنے والے لوگوں کے بال بھی اُجڑ جاتے ہیں ۔ سی این آئی نمائندے برائے پٹن نے جب اس معاملے کو لیکر مذکورہ فلٹریشن پلانٹ کا دورہ کیا تو پایا کہ فلٹریشن پلانٹ برائے نام ہے اور فلٹریشن کا کوئی نظام نہیں ہے جبکہ پانی میں موجود جراثوم کے خاتمہ کےلئے جراثوم کش دوائی بھی نیچے کھلے میں پڑی ہوئی ہے ۔فلٹریشن پلانٹ کے آس پاس سانپ، بچھو و دیگر موذی جانور بڑی تعداد میں پائے جارہے ہیں جو پلانٹ میں موجود پانی میں موج مستی کرتے دکھائی دے رہے تھے ۔ اس سلسلے میں کئی ماہرڈاکٹروں نے بتایا کہ موذی جانوروں جب پانی میں اُترتے ہیں تو ان کی منہ میں لگے زہر کی وجہ سے پانی بھی ناقابل استعمال بن جاتا ہے اور جب لوگ اس کو کھانے پینے کےلئے استعمال کرتے ہیں تو وہ مختلف بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں ۔
سنگھ پورہ و دیگر ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے اس پانی کو استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا ہے اور کھانے پینے کےلئے استعمال کیا جانے والا پانی لوگ پٹن ٹاون یا سرینگر سے اپنی نجی گاڑیوں میں شام کے بعد لانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ نمائندے نے کہا لوگوں کے حوالے سے کہا کہ اگرچہ مقامی لوگوں نے کئی بار محکمہ پی ایچ ای کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا تاہم محکمہ کے افسران کی جانب سے خالی یقین دہانوں کے سوا انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ فلٹریشن پلانٹ کا جائزہ لینے کےلئے آج تک کوئی بھی افسر پلانٹ پر نہیں گیا کیوں کہ پلانٹ اونچائی پر واقع ہے اور افسران اس طرف جانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے رہے جس کی وجہ سے محکمہ کے ملازمین لوگوں کو لگاتار ناصاف پانی فراہم کررہے ہیں ۔
لوگوں نے اس حوالے سے محکمہ پی ایچ ای کے چیف انجینئر، گورنر کے مشیر اور ڈویژنل کمشنر کشمیر سے مود بانہ اپیل کی ہے کہ اس نازک اور اہم مسلے کی سنجیدگی کو دھان میں رکھ کر سنگھ پورہ کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کےلئے اقدامات اُٹھائیں اور لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے عملہ کے خلاف کارروائی کریں۔
Comments are closed.