21 سالہ نوجوان نے 13 سالہ معصوم کا قتل کیا :پولیس
گاندربل: پولیس نے وسطی ضلع گاندربل میں 13 سالہ معصوم کے قتل معمہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ،جسکی 18 ستمبر کے روز ایک میوہ باغ سے پُراسرار حالت میں نعش برآمد کی گئی تھی .پولیس کے مطابق قتل واردات کے سلسلے میں ایک ملزم کو گرفتار کیا ،جس نے بدلے کی آگ میں یہ سنگین قدم اٹھایا.
18 ستمبر کے روز 13 سالہ فیصل احمد مسگر ولد غلام حسن مسگر کی نعش اپنے گھر سے چند میٹر کی دوری پر ایک میوہ باغ سے پراسرار طور پر برآمد کی تھی .
معاملے کی نسبت پولیس نے ایک مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی اور دوران تفتیش پولیس نے ابرار مجید ریشی جوکہ فیصل کا پڑوسی ہے ،کو پوچھ تاچھ کےلئے حراست میں لیا ،جس دوران اُس نے معصوم کو قتل کرنے کا اقبال جرم کیا .
ایس ایس پی گاندربل خلیل پوسوال نے گاندربل میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ قاتل نے قتل کی واردات انجام دینے سے قبل غلام حسن مسگر سےاُسکی بیٹی کے ساتھ شادی کرنے کی پیشکش کی تھی ،جسےفیصل کے والد نے مسترد کیا .
فیصل کی بہن کی شادی اُسکی موت سے تین دن قبل ہوئی تھی .پولیس کا کہنا ہے کہ ابرار نے شادی کی پیشکش مسترد کرنے اور بدلے کی آگ میں معصوم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا .
انہوں نے کہا کہ ابرار جس لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ،نے شادی کی پیشکش مسترد کئے جانے پر اُسکے بھائی کا بہیمانہ قتل کیا .
ابرار کے موبائل فون کالز کی تفصیلات پر پولیس اس قتل معمہ کو حل کرنے میں کامیاب ہوئی .
ایس ایس پی گاندربل کے مطابق ملزم نے معصوم بچے کو قتل کرنے کا اقبال جرم کیا اور اُسکو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا .
ان کا کہناتھا کہ اس ضمن میں ایک مقدمہ درج ہے ،اور عنقریب ملزم کے خلاف عدالت میں چالان پیش کیا جائیگا .
Comments are closed.