’تین طلاق آرڈیننس توہین عدالت کے مترادف‘

ممبئی: مرکزی حکومت نے آج اچانک تین طلاق آرڈیننس کو منظوری دے دی جو صدر جمہوریہ ہند کے پاس بھیجا جائے گا اور اس کی منظوری کے بعد یہ آرڈیننس عمل میں آئے گا جس میں طلاق ثلاثہ دینے والوں کو تین سال کی قید اور باقی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

حکومت کے اس آرڈیننس پر عوامی وکاس پارٹی کے صدر اور ریٹائرڈ اے سی پی شمشیر خان پٹھان نے حکومت کے اس غیر آئینی آرڈیننس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ پچھلے سال سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو پانچ مہینے میں طلاق ثلاثہ پر پابندی لانے کے لئے قانون لانے کی ہدایت دی تھی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے قانون کا مسودہ بنایا اور لوک سبھا میں پیش کیا ایوان میں اسے منظوری حاصل ہوئی، لیکن راجیہ سبھا نے اس قانون کو منظور نہیں کیا۔ پھر دوبارہ کوشش کی گئیاور حکومت کو ناکامی کاسامنا کرنا پڑا۔آج تک راجیہ سبھا میں زیر التواء ہے۔

شمشیر خان پٹھان نے مزید کہا کہ مودی حکومت کو پتہ ہے کہ یہ قانون راجیہ سبھا میں پاس نہیں ہوگا اس لئے انہوں نے چور دروازے سے آرڈیننس کی شکل میں اسے پاس کیا جبکہ ہمارے آئین کے دفعہ ۳۲۱کے تحت فوری طور پر اگر کوئی قانون پاس کرنا ہے جو وقت کی ضرورت ہے اور پارلیمنٹ کے سیشن کو اگر وقت ہے تو اس طرح سے آرڈیننس پاس کیا جاتا ہے جس کے بعد صدر جمہوریہ ہند سے منظوری لی جاتی ہے، لیکن طلاق ثلاثہ کے مدعہ پر کوئی بھی فوری عمل کی ضرورت نہیں ہے اور جب تک راجیہ سبھا میں یہ معاملہ زیر التواء ہے ایسے معاملات میں آرڈیننس نہیں لایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح سے مودی حکومت نے مسلم دشمنی نبھاتے ہوئے اس آرڈیننس کو پاس کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے پچھلے سال کے فیصلے میں حکومت کو پانچ مہینے کی مدت دی تھی لیکن حکومت نے اس پانچ مہینے کی مدت میں سپریم کورٹ میں اب تک نہیں گئی اور نہ وقت مانگا ہے جس کی وجہ سے حکومت یہ قانون بنانے کا حق نہیں رکھتی ہے اور ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حکومت کو قانون بنانے کے لئے کہا تھا نہ کہ آرڈیننس جاری کرنے کے لئے۔ اس طرح سے حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم نامہ کی توہین کی ہے۔سپریم کورٹ کے سات ججوں پر مشتمل بینچ نے اپنے ایک فیصلے میں یہ بات کہی ہے کہ اس طرح کے آرڈیننس لا کر حکومتیں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی توہین نہیں کر سکتی ہیں۔ صرف ایمرجنسی کے حالات میں ہی ایسے آرڈیننس آتے ہیں۔ عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ سے اپیل کی ہیں کہ وہ اس وقت تمام مسلم تنظیموں کو ایک ساتھ لے کر صدر جمہوریہ کے پاس عرضی کریں اور انہیں اس آرڈیننس کو نامنظور کرنے کی گزارش کی جائے۔کیونکہ یہ قانون راجیہ سبھا میں زیر غور ہوتے ہوئے آر ڈیننس کی شکل میں پاس نہیں کیا جا سکتا اور ساتھ ہی انہوں نے یہ تیاری بھی کرنی چاہیئے کہ اگر صدر جمہوریہ آرڈیننس کو منظور کریں۔اس طرح سے مودی حکومت غیر آئینی طریقہ سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کر کے جو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور عدلیہ اورجمہوریت کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہے۔

Comments are closed.