گوپال پورہ دمہال ہانجی پورہ کولگام میں درمیانی شب کو خونریز معرکہ آرائی حزب سے وابستہ 2مقامی جنگجو جاں بحق جاں بحق جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت کی ، جنگجوؤں نے نماز جنازہ میں ہوائی فائرنگ کی ۔ پلوامہ قصبہ میں مسلسل تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال
سرینگر؍03؍اگست۔دمہال ہانجی پورہ کولگام میں 2اور 3اگست کی درمیانی رات کو اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد گاؤں کا محاصرہ کیا اس دوران جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان اچانک آمنا سامنا ہوا۔ نمائندے کے مطابق کئی منٹوں تک فائرنگ کے بعد فوج نے جھڑپ کی جگہ دو مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ۔ پولیس ترجمان نے جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ 9آر آر، 62آر آر ،18بٹالین سی آر پی ایف نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد درمیانی رات کو گوپال پورہ کولگام گاؤں کو محاصرے میں لیا ۔ ترجمان کے مطابق تلاشی کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان کئی منٹوں تک گولیوں کاتبادلہ ہوا جس دوران دو مقامی عسکریت پسند جن کی شناخت عاقب احمد یتو ولد عبدالحمید ساکنہ گوپال پورہ اور سہیل احمد راتھر ولد محمد عارف ساکنہ تانترے پورہ یاری پورہ کے بطور ہوئی جاں بحق ہوئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں کے قبضے سے ایک انساس اور ایک اے کے رائفل برآمد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مارے گئے عسکریت پسند پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے اور اُن کے جاں بحق ہونے سے حزب المجاہدین کو کولگام میں شدید دھچکا لگا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق عاقب احمد پم بائی کولگام میں جموں وکشمیر بینک کیش وین پر حملہ کرنے میں براہ راست ملوث تھا جس دوران پانچ پولیس اہلکار اور دو عام شہری ہلاک ہوئے تھے ۔ ترجمان کے مطابق عاقب احمد نے ہی یاری پورہ کولگام میں پولیس اہلکار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اُس کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ جاں بحق جنگجو عاقب احمد جموں وکشمیر بینک برانچ کیدر میں رقومات لوٹنے میں بھی پیش پیش تھا جبکہ آڑی جن کولگام میں پولیس اہلکار کی سروس رائفل اڑانے میں بھی یہی جنگجو ملوث تھا۔ پولیس ترجمان کے مطابق جھڑپ کے دوران جاں بحق ایک اور جنگجو جس کی شناخت سہیل احمد کے بطور ہوئی ہے کے خلاف بھی پہلے ہی کئی ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں ۔ دریں اثنا جونہی کولگام میں مقامی جنگجوؤں کو مار گرانے کی خبر پھیل گئی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ نمائندے کے مطابق فورسز اور مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جس دوران سیکورٹی فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ معلوم ہوا ہے کہ مظاہرین اور فورسز کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری جس کے نتیجے میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ ادھر جاں بحق جنگجوؤں کی نعشیں جب اُن کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے عسکریت پسندوں کی نعشوں کو کاندھوں پر اٹھا کر انہیں عید گاہ میں رکھا۔ معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ علاوہ ازیں نماز جنازہ کے دوران جدید اسلحہ سے لیس عسکریت پسند نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کو سلامی دی ۔ ادھر مقامی جنگجو کی یاد میں تعزیتی ہڑتال اور پولیس وفورسز کی بھاری تعیناتی کے نتیجے میں پلوامہ قصبہ میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں اس دوران پتھراو اور شلنگ کے بھی واقعات پیش آئے۔
Comments are closed.