نسیم باغ حضرت بل میں جا بحق نوجوان ،جنگجو تھا:پولیس
مہلوک کے قبضے سے ایک پستول بھی برآمد ہوا،پولیس ترجمان
سرینگر:شہر سرینگر کے مضافاتی علاقہ نسیم باغ حضرت بل میں نامعلوم بندوق برداروں کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا جبکہ پولیس دعویٰ کیا ہے کہ جاں بحق نوجوان جنگجو تھا ،تاہم ہلاکت کے حوالے سے پولیس نے کوئی وضاحت نہیں کی ۔ادھر اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی انتظامیہ نے بتایا کہ حضرت میں جاں بحق ہونے والا یونیورسٹی میں زیر تعلیم نہیں تھا ۔
سری نگر کے مضافاتی علاقہ نسیم باغ حضرت بل میں ہفتہ کے روز نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ کچھ نامعلوم اسلحہ برداروں نے نسیم باغ علاقہ میں ایک نوجوان پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی۔ مہلوک نوجوان کی جیب سے برآمد ہونے والے شناختی کارڈ کے مطابق اس کا نام اشفاق احمد اور وہ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا طالب علم تھا۔
تاہم بعد ازاں واقعہ کی نسبت پولیس نے شام دیر گئے ایک تحریری بیان جاری کیا ،جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حضرت بل سرینگر میں ایک انفرادی شخص اُس وقت ہلاک ہوگیا ،جب اُس پر فائرنگ کی گئی۔پولیس نے ترجمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ جائے واردات سے ایک پستول برآمد ہوا جبکہ مہلوک کی شناخت بعد میں آصف نذیر ڈار ولد نذیر احمد ڈار ساکنہ پنزگام اونتی پورہ کے بطور ہوئی ۔
پولیس نے بتایا کہ مذکورہ مہلوک نوجوان ملی ٹنٹ تھا اور سال2017سے سرگرم تھا ،ابتدائی مرحلے پر وہ حزب المجاہدین عسکری تنظیم کےلئے کام کرتا تھا ،لیکن بعد میں وہ عیسیٰ فاضلی جنگجو گروپ کے ساتھ وابستہ ہوا۔پولیس ترجمان نے کے مطابق اس ضمن میں ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ۔مذکورہ نعش کو قانونی لوازمات کے بعد آخری رسومات انجام دےنے کےلئے ورثاں کے سپرد کر دی گئی ۔
ادھر اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی انتظامیہ نے بتایا کہ حضرت میں جاں بحق ہونے والا یونیورسٹی میں زیر تعلیم نہیں تھا ۔ادھر اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر مشتاق صدیقی کا کہنا ہے کہ نسیم باغ حضرت بل سرینگرمیں جاں بحق ہونے والا نوجوان یونیورسٹی کا طالب علم نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی سرینگر سے بات کی گئی اور اُس نے بتایا کہ مہلوک نوجوان کے قبضے سے برآمد شدہ شناختی کارڈ نقلی ہے۔ان کا کہناتھا کہ سوشل میڈیا سائٹوں پر مہلوک نوجوان کو اسلامک یونیورسٹی کے ساتھ جوڑنا صحیح نہیں ہے اور پھیلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
دریں اثناءنوجوان کی نعش جونہی آبائی گاﺅں پنزلہ اونتی پورہ پہنچائی گئی ،تو وہاں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ۔( کے این این )
Comments are closed.