خصوصی پوزیشن پر حملے بند نہ ہوئے تو اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کریں گے: فاروق عبداللہ

سری نگر:نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے تیور مزید سخت کرتے ہوئے دھمکی دی کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر مبینہ منصوبہ بند حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو ان کی جماعت ’نیشنل کانفرنس‘ مجوزہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے ساتھ ساتھ آئندہ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس انتخابات لڑنے سے دور نہیں بھاگے گی، لیکن ہمیں پہلے انصاف چاہیے۔ فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’ہٹلر‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر ’مودی نے 15 اگست کولال قلعہ کی فصیل سے جموں وکشمیر میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا‘۔ انہوں نے کہا ’ایک طرف آپ یہاں انتخابات کرانا چاہتے ہواور دوسری طرف دفعہ 35 اے کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہو۔ ایسی صورتحال میں ہم لوگوں سے کیسے ووٹ مانگیں گے‘۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کے36 ویں یوم وصال کے سلسلے میں سری نگر کے مضافاتی علاقہ نسیم باغ میں واقع اُن کے مقبرہ پرمنعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے بیان کہ ’جموں وکشمیر کے لئے الگ آئین ایک غلطی تھی‘ پر کہا کہ ’اگر ریاست کا آئین، دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 غلط ہیں تو ریاست کا بھارت سے الحاق بھی غلط ہے‘۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر ،معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ دیگر سرکردہ لیڈران نے بھی خطاب کیا۔ فاروق عبداللہ نے آئندہ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ’ایک طرف آپ یہاں انتخابات کا انعقاد کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف دفعہ 35 اے کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔آپ دفعہ 370 کو آہستہ آہستہ ختم کررہے ہو۔ ریاست کے آئین پر بھی حملے کررہے ہو۔ ایسی صورتحال میں ہم کیسے لوگوں کے پاس ووٹ مانگنے جائیں گے؟‘۔ انہوں نے کہا ’آپ کیا کرنا چاہتے ہو۔ اگر آپ کی وہ راہ ہے تو ہماری بھی الگ راہ ہے۔ ہم آپ کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ہم اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ کو جن لوگوں کو الیکشن لڑنے کے لئے لانا ہے، آپ لاسکتے ہو‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس انتخابات لڑنے سے دور نہیں بھاگے گی۔ انہوں نے کہا ’ہم انتخابات لڑنے سے نہیں بھاگیں گے۔ مگر پہلے ہم سے انصاف کیا جائے۔ جب آپ انصاف کریں گے تو ہم آگے آئیں گے۔ مگر آپ کو پہلے ہمارے ساتھ انصاف کرنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا ’میں بے شک الیکشن کی وکالت کرتا ہوں، لیکن جو طریقہ کار ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے سپریم کورٹ میں اختیار کیا اُس نے ہمیں یہ فیصلہ لینے پر مجبور کردیا۔ سپریم کورٹ میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا موقف جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات اور احساسات کے عین برعکس ہے اور جب تک یہ دنوں سرکاریں ریاست کی خصوصی پوزیشن کو تحفظ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کریں گی تب تک جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کسی بھی الیکشن کا حصہ نہیں بنے گی‘۔ انہوں نے کہا ’ہم سے پہلے (انتخابات کے انعقاد پر) بات کی جانی چاہیے تھی۔ تمام لیڈران کو بلایا جانا چاہیے تھا۔ ہم سے پوچھا جانا چاہیے تھا کہ ہم یہاں انتخابات کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی اس پر کیا رائے ہے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ہٹلر کی طرح لال قلعہ کی فصیل سے ریاست میں پنچایتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ زمینی صورتحال بھی تو دیکھ لو‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان پارٹی زعماءکے مشورے پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا ’میرے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کا فیصلہ صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہم آپ کے پارٹی ساتھی ہیں۔ تینوں خطوں کے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے مجھ سے ایک ہی زبان میں کہا کہ ہمیں تب تک انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے جب تک دفعہ 35 اے کا فیصلہ نہیں ہوتا ‘۔ فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کشمیریوں کو اپنی وحدت ، انفرادیت اور پہچان کا دفاع کرنے کے لئے کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی بیش بہا مالی اور جانی قربانیاں دیں ہیں اور مستقبل میں بھی ہم جموں وکشمیر کے مفادات اور احساسات کا دفاع کرنے کیلئے سربہ کفن ہے۔ خیال رہے کہ فاروق عبداللہ نے 5 ستمبر کو نیشنل کانفرنس ہیدکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ پارٹی کی طرف سے فیصلہ لیا گیا کہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس اُس وقت تک بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی جب تک نہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں دفعہ35اے کو لیکر اپنی پوزیشن واضح کریں گی اور عدالت کے اندر اور باہر اس دفعہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کارگر اور ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائیں گی۔ دریں اثنا فاروق عبداللہ نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے بیان کہ ’جموں وکشمیر کے لئے الگ آئین ایک غلطی تھی‘ پر کہا کہ ’اگر ریاست کا آئین، دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 غلط ہیں تو ریاست کا بھارت سے الحاق بھی غلط ہے‘۔ انہوں نے کہا ’ان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر دوول صاحب نے کشمیر پر ایک اور چھری چلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لئے الگ آئین ایک غلطی تھی۔ میں آج اس مقبرے سے دوول صاحب اور مرکزی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ریاست کا آئین، دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 غلط ہیں تو ریاست کا بھارت سے الحاق بھی غلط ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت میں مدغم نہیں ہوئے ہیں، جموںوکشمیر بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح نہیں، مہاراجہ ہری سنگھ نے جو الحاق کیا اُس کے بعد ریاست کو الگ مقام دلانے کے لئے ہمارے قائدین نے بہت جدوجہد کی۔ ہماری اس منفرد پہچان کو بھارت کے آئین میں ضمانت حاصل ہوئی ہے اور اگر اس پہچان کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کا براہ راست اثر مشروط الحاق پر بھی پڑے گا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی نے بار بار ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے لئے نت نئے حربے اپنائے اور حال ہی میں سابق پی ڈی پی سرکار کی طرف سے جی ایس ٹی کے اطلاق نے ہماری مالی خودمختاری چھین لی۔ جس دن اس قانون کا اطلاق جموں وکشمیر پر ہوا اُسی روز مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ آج بھاجپا اور آر ایس ایس کے بانی شاما پرساد مکھرجی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکار کو جموں وکشمیر کے تئیں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آپ ہمیں ملک کا تاج بولتے ہیں اور دوسری جانب ہماری ریاست کو غلط پالیسیوں اور منصوبہ بند سازشوں کے ذریعے برباد کیا جارہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے کشمیر سے متعلق کئی اعلانات کئے لیکن 4سال کے دوران زمینی سطح عملی کام نہیںہوا۔ یہاں تک کہ مودی نے واجپائی کے انسانیت، جموریت اور کشمیریت کے نعرے کو موزوں اور صحیح قرار دیا اور اس پر عمل کرنے کا اعلان بھی کیا لیکن سب کچھ عبث ثابت ہوا۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی میں ہی خطے میں دیر پا امن اور مسئلہ کشمیر کا حل مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی واجپائی نے پاکستان کو تسلیم کیا اور وہاں کا دورہ کیا۔ موجودہ بھاجپا سرکار کو اُنہی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے۔ عمران خان نے وزیرا عظم بننے کے بعد بار بار ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا برملا اظہار کیا ، جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان نومنتخب پاکستانی وزیر اعظم اور حکومت کے پیشکش مثبت جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہند و پاک دوستی میں ہی امن کا راز مضمر ہے، اسی سے قتل و غارت کا سلسلہ تھم سکتا ہے۔ ظلم و ستم، کریک ڈاﺅن، گرفتاریوں، پیلٹ گنوں اور دیگر مصائب سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ کو ہدف تنقید بناتے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ٹی وی چینلوں پر کشمیر کے بارے میں جاری منفی مہم کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیر میں مقیم پنڈتوں پر حملے ہونے کا خدشہ ہے، اور یہ غلط تاثر پھیلانے کیلئے مقامی طور پر بھی شرپسند عناصر کو کام پر لگایا گیا ہے جو پنڈتوں کے گھروں میں جاکر اُن میں خوف و ہراس پیدا کرنے والی منگھڈت کہانیاں سناتے ہیں۔ کیا کشمیر میں ایک بار پھر جگموہن کی پالیسی اختیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں؟ بتادیں کہ گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں 31 اگست کو ہوئی ریاستی کونسل کی میٹنگ میں ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کو منظوری دی گئی ۔ ریاستی کونسل نے فیصلہ لیا کہ میونسپل اداروں کے انتخابات چار مرحلوں میں کرائے جائیں گے اور پولنگ کی تاریخیں یکم اکتوبر 2018ءسے 5اکتوبر 2018 تک ہوں گی۔ اسی طرح پنچایتوں کے انتخابات 8مرحلوںمیں کرائے جائیں گے اور ان کی تاریخیں 8نومبر 2018ءسے لے کر 4دسمبر 2018 تک ہوں گی۔ کشمیری مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کی پہلے ہی کال دے چکے ہیں۔ دفعہ 35 اے کے خلاف دائر متعدد عرضیاں اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔سپریم کورٹ نے ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کے پیش نظر دفعہ 35 اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت اگلے برس جنوری کے دوسرے ہفتے تک کے لئے ملتوی کر رکھی ہے۔

Comments are closed.