جموں، ماہ جنوری2018میں آٹھ سالہ معصوم بچی کی اجتماعی آبروریزی اور قتل معاملہ سے عالمی سطح پر شہ سرخیاں بننے والے جموں وکشمیرریاست کے ضلع کٹھوعہ میں جنسی زیادتی کا ایک اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آیاہے۔ضلع کٹھوعہ کے ‘پارلی بنڈ‘میں انسانیت کو شرمسار کردینے والے اس معاملہ میں ضلع انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں گرجاگھر کے نام پر چلائے جارہے غیر اندراج شدہ ہوسٹل سے کم سے کم 20کمسن بچے بچیوں کو نکال کر بال آشرم ناری نکیتن منتقل کیاگیاہے۔
حکام کے مطابق کٹھوعہ قصبہ کے پارلی بنڈ علاقہ میں گرجا گھر کے نام پر بنائے گئے رہائشی ہوسٹل میں کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ دست درازی کی متعدد شکایات موصول ہوئیں تھیں، جن کا نوٹس لیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ریونیو جتندر مشرا کی قیادت میں پولیس اور سول انتظامیہ کی ٹیم نے جمعہ کی شام اس عمارت پر چھاپہ مارا اور لگ بھگ دو گھنٹوں تک تلاشی مہم جاری رہی ۔بچوں سے پوچھ تاچھ کے بعد اس ہوسٹل کے منتظم’انٹی تھومس‘کو حراست میں لے لیاگیا۔ پولیس نے5سے16برس کی آٹھ لڑکیوں اور بارہ لڑکوں کو آشرم سے ناری نکیتن منتقل کیاگیا۔
غیر اندراج شدہ یتیم خانہ کو چلانے والے پادری کا تعلق ریاست کیرلہ سے بتایاجاتاہے ۔ اس کے خلاف جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ متعلق قانون’POSCO‘’پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفنسیز ایکٹ‘کے تحت مقدمہ درج کر لیاگیاہے تاہم ملزم نے تمام طرح کے الزامات سے انکار کیاہے۔ گرفتاری سے قبل نامہ نگاروں کو اس نے بتایاکہ ”21بچے بچیاں یتیم خانہ میں رہائش پذیر ہیں جن میں سے دو اپنے آبائی گاو¿ں پٹھانکوٹ پنجاب میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے گئے تھے، ہراساں یاٹارچر کئے جانے کی شکایات بے بنیاد ہیں۔
اس ہوسٹل میں رہائش پذیر بچے بچیوں کا تعلق پنجاب، ہماچل پردیش اور جموں کے مختلف علاقوں سے بتایاجاتاہے۔ ایس ایس پی کٹھوعہ شری دھار پٹیل نے بتایاکہ ”بچاو¿ آپریشن شکایت موصول کے بعد شروع کیاگیا جس میں مزید تحقیقات جاری ہے“۔ انہوں نے بتایاکہ یتیم خانہ کافی سالوں سے چل رہاہے، پادری کا دعویٰ ہے کہ یہ کرسچن مشینری کی ایک شاخ ہے لیکن تحقیقات کرنے پر یہ بات غلط ثابت ہوئی ہے یتیم خانہ /ہوسٹل سے کچھ چیزیں بھی ضبط کی گئی ہیں۔بازیاب کئے گئے بچوں کا طبی معائنہ کیاگیا اور کونسلنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پادری کی اہلیہ سیلاب کے پیش نظر کیرلہ گئی ہوئی ہے جوکہ چند دنوں بعد واپس آئے گی۔اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کٹھوعہ جتندر مشرا جوکہ مشترکہ چھاپہ ماری ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے، نے بتایاکہ بچوں کی ہراساں اور ٹارچر کئے جانے کی متعدد شکایات موصول ہونے کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی ۔ بچوں کے افراد خانہ سے رابطہ کیاجارہاہے۔انہوں نے بتایاکہ انٹینی تھومس یتیم خانہ سے متعلق کوئی بھی دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہا۔
دریں اثناءراشٹریہ بجرنگ دل کارکنان نے ہفتہ کے روز یہاں پریس کلب جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مانگ کی کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دئی جائے۔ مظاہرین نے پادری کاپتلا بھی نذر آتش کیا۔ اس واقعہ کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جارہی ہے۔ متعدد سیاسی وسماجی اورمذہبی تنظیموں نے اس کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کی مانگ کی ہے۔ یو این آئی
Comments are closed.