مجوزہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے خلاف مزاحمتی قیادت کی بائیکاٹ مہم
سرینگر(پی آر )مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مجوزہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے خلاف بائیکاٹ مہم کا آغاز کرتے ہوئے مزاحمتی لیڈران وکارکنان نے آبی گزر سرینگر اور ماسئمہ میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔اس دوران لیڈران نے تقاریر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آئین کے تحت ٹھونسا گیا کوئی بھی الیکشن عمل آزادی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے ۔اس سلسلے میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق حریت کانفرنس کی طرف سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مجوزہ پنچائتی اور بلدیاتی الیکشن کے نام پر ریاستی عوام کی طرف سے شروع کی گئی تحریک حقِ خودارادیت پر شب وخون مارنے کی فوجی آپریشن کے خلاف بائیکاٹ مہم کا آغاز کرتے ہوئے آبی گزر سرینگر میں ایک پُرامن جلوس نکالنے کا اہتمام کیا۔ جلوس کی قیادت حریت کے سینئر راہنما محمد یٰسین عطائی نے کی اور مجلس شوریٰ کے نمائندوں بشمول بلال صدیقی، مولوسی بشیر عرفانی، سید محمد شفیع، محمد یوسف نقاش، نثار حسین راتھر، یاسمین راجہ، غلام محمد ناگو، خواجہ فردوس، منظور غازی، امتیاز احمد شاہ، غلام قادر کشمیری کے علاوہ سینکڑوں اراکین نے شمولیت کی۔ شرکائے جلوس آزادی کے حق میں نعرے بلند کرنے کے ساتھ ساتھ حقِ خودارادیت کے حصول تک کِسی بھی الیکشن عمل میں حصہ نہ لینے کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے نعرے دے رہے تھے۔ احتجاجی جلوس میں عوام بالخصوص نوجوانوں نے بھی حصہ لیا۔بیان کے مطابق اس موقع پر یہاں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے محمد یاسین عطائی نے حریت کانفرنس کے اس غیر متزلزل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے حریت پسند عوام نے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں اور بھارتی آئین کے تحت ٹھونسا گیا کوئی بھی الیکشن عمل آزادی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے۔ تہاڑ جیل میں نظربند شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، نعیم احمد خان، محمد اسلم وانی، شاہد یوسف، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، مظفر احمد ڈار، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور نائدہ نصرین کو جیل سہولیات سے محروم اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے علاوہ جملہ اسیران زندان بشمول مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، غلام محمد خان سوپوری، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، بشیر احمد قریشی، عمر عادل ڈار، مشتاق الاسلام، فاروق توحیدی، اسداللہ پرے، حکیم شوکت، عبدالرشید مغلو وغیرہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے جانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ حریت ترجمان کے مطابق طے شدہ پروگرام کے مطابق احتجاجی جلوس کی قیادت کرنے کی ذمہ داری حریت سیکریٹری جنرل غلام نبی سمجھی کو سونپی گئی تھی، لیکن انہیں پولیس انتظامیہ نے علی الصبح اپنے ہی گھر میں نظربند رکھ کر ان کی شرکت کو ناممکن بنایا، جبکہ حریت کے ایک اور سینئر راہنما حکیم عبدالرشید کو قابض پولیس انتظامیہ نے گرفتار کرکے سینٹرل جیل سرینگر میں مقید کیا گیا۔ حریت ترجمان نے حریت راہنماو¿ں کی بلاجواز گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کو بھارت کے قابض حکمرانوں نے ایک پولیس اسٹیٹ بنایا ہے، جہاں حریت پسندوں کی پُرامن سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے قابض افواج اور پولیس انتظامیہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ادھر جموں کشمیر میں جاری جبر و تشدد، کریک ڈاﺅن، قتل و غارت گری ، گرفتاریوں کے چکر اور جیلوں میں اسیر کشمیریوں پر نت نئے مظالم ڈھانے کے خلاف آج لبریشن فرنٹ کے قائدین و اراکین نے لال چوک میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ لبریشن فرنٹ کے قائدین و اراکین اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آج مائسمہ بڈشاہ چوک کے قریب جمع ہوئے اور کشمیر کے طول و عرض خاص طور پر جنوبی و شمالی اضلاع میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کے نام پر جارہ کریک ڈاﺅن، معصوموں کے قتل عام، گرفتاریوں کے چکر،کشمیری اسیروں پر بھارت اور جموں کشمیر کی جیلوں میں ڈھائے جانے والے سخت مظالم، دوران کریک ڈاﺅن عام لوگوں کی مار پیٹ، ان کے ساتھ فورسز کے ہتک آمیز سلوک، گھروں اور املاک کی توڑ پھوڑ اور دوسرے مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔ ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے اور کشمیری اسیروں کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے شرکائے جلوس لال چوک میں بڈشاہ کے قریب ایک دھرنے پر بیٹھ گئے جس سے فر نٹ قائدین نے خطاب کیا۔ احتجاج میں فرنٹ کے نائب چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ، نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی، زونل صدر نور محمد کلوال سمیت قائدین محمد یاسین بٹ، میر محمد زمان، شیخ عبدالرشید،محمد صدیق شاہ، بشیر احمد کشمیری، مشتاق احمد خان، غلام محمد ڈار، پروفیسر جاوید، اشرف بن سلام،مہراج الدےن پرے اور دوسرے شریک ہوئے۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے کشمیر میں جاری جبر و تشدد اور فوجی بربریت نیز کشمیری اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ مظالم ہر لحاظ سے غیر جمہوری ہیں۔ یہ احتجاج بعدازاں پرامن طریقے پر اختتام پذیر ہوا۔
Comments are closed.