سرینگر: وادی میں آئے تباہ کن سیلاب کی چوتھی برسی پر تاجروں،صنعت کاروں اور دیگر کاروباری انجمنوں پر مشتمل مشترکہ اتحاد کشمیر اکنامک الائنس کی طرف سے نکالے گئے سیکریٹریٹ مارچ کو ناکام بناتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار سمیت نصف درجن مظاہرین کو حراست میں لیا۔
کشمیر اکنامک الائنس میں شامل درجنوں اکائیوں کے نمائندے سرینگر کی پریس کالونی گھر کے نزدیک نمودار ہوئے اور وادی میں2014میں آئے تباہ کن سیلاب کی چوتھی برسی پر تاجروں اور سیلاب زدہ مکینوں کو سرکار کی طرف سے نظر انداز کرنے کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاجی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے ،جن پر ، سیلاب زدگاہ کو نظر انداز کیا گیا،سیلاب زدگان کو انصاف دو ،کے نعرئے تحریر کئے گئے تھے۔
احتجاجی مظاہرین نے سیول سیکری ٹریٹ تک جانے کیلئے پیش قدمی کی تاہم اس دوران پولیس بھی وہاں نمودار ہوئی اور انہوں نے مظاہرین کو منتشر ہونے کیلئے کہا،تاہم اکنامک الائنس کے کارکنوں نے احتجاج جاری رکھا۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان مخاصمت کے بعد پولیس نے کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار، نائب چیئرمین اعجاز احمد شہدار، سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے سیکریٹری ارشد احمد بٹ، سنیئر تاجر لیڈراںتصدق حسین لاوئے اورحاجی نثار، سمیت کئی افراد کی گرفتاری عمل میں لاکر کوٹھی باغ پولیس تھانہ پہنچایا۔اس دوران احتجاج میں الائنس کے چیئرمین محمد یوسف چاپری،اربن ٹور اینڈ ٹراولز کے صدر جان محمد،شکاری ایسو سی ایشن کے صدر حاجی ولی محمد سمیت دیگر انجمنوں کے لیڈروں نے بھی شرکت کی۔ گرفتاری سے قبل میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے بتایا کہ ایک منصوبے کے تحت کشمیر عوام کو اقتصادی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صنعت کاروں،تعمیراتی معماروں ہوٹل و ہاوس بوٹ مالکان اور تاجروں کے مشترکہ پلیٹ فارم کشمیر اکنامک الائنس نے خبردار کیا کہ اگر مکمل پیکیج فوری طور پر واگزار نہیں کیا گیا تو منظم احتجاجی لہر چھیر دی جائے گی۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے مرکز کی طرف سے سیلاب متاثرین کا معاوضہ واگزار کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے کہا کہ مرکزی حکومت نے حاتم طے کی قبر پر لات مارتے ہوئے تباہ کن سیلاب سے ہوئے نقصان کا صرف 5 فیصد واگزار کیا جو سیلاب متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے جہاں ایک سر سری اندازے کے مطابق ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا وہی سابق مخلوط سرکار نے44ہزار کروڑ روپے کے مالی پیکیج کی تجویز مرکزی حکومت کو پیش کی تھی تاہم 8سو کروڑ روپے کی واگزاری کا اعلان کیا گیا،وہ بھی سراب ثابت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ یہ امداد’ اونٹ کے منہ میں زیرہ‘ ڈالنے کے مترادف ہے جس سے نہ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری ممکن ہے اور نہ ہی تجارتی و اقتصادی شعبوں کو ہوئے نقصان کی بر پائی ہو سکتی ہے۔ فاروق احمد ڈار کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین مرکزی حکومت سے آس لگائے بیٹھے تھے کہ سیلاب کی وجہ سے ہوئے نقصان سے نپٹنے کیلئے انکی بر پور مالی معاونت کریں گا تاہم مرکزی حکومت نے متاثرین کو مایوس اور ناامید کیا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کی چوتھی برسی پر وہ امداد کے مطالبے کیلئے احتجاج نہیں کر رہے ہیں، اور نہ ہی اس کیلئے تاجروںکو یوم سیاہ مانانے کی کال دی گئی ۔بلکہ حکومت ہند تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں،کہ کشمیری سیلاب زدگان کے ساتھ زیادتی کی گئی،اور انہیں اپنے حق کیلئے لڑنے کی وجہ سے یہ سزا دی گئی۔
Comments are closed.