سرینگر: میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ حکومت ہندوستان ۷۴۹۱ءسے برابر جموںوکشمیر کے عوام کی مبنی برحق تحریک آزادی کو کمزور کرنے اور کشمیر کے متنازعہ مسئلہ کی حیثیت اور ہیئت کو کمزور کرنے کیلئے مختلف حربے بروئے کار لا رہا ہیں۔
مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے ہندوستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈئیزر اجیت ڈوول کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان نے ہندستان کے گھناﺅنے چہرے اور اس کے اصل عزائم کو کشمیری عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ہے خصوصاً اقوام عالم پر اس بیان سے یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ ہندوستان کشمیر پر اپنا جبری قبضہ یہاں کے عوام کی خواہشات کے برعکس کسی بھی قیمت پر جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ مذکورہ بیان ہندوستان کے اُس اصولی موقف اور دستور کے خلاف ہے جو کہ کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ مان کر یہاں کے عوام کو حق خود ارادیت کا حق فراہم کرتا ہے جیسا کہ بھارت کے اولین وزیراعظم آنجہانی جواہر لعل نہرو نے پوری دنیا کے سامنے کشمیریوں سے اس کا وعدہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اکثریتی کردار کو ختم کرکے بھارت یہاں کی زمین پر اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے اور یہاں کے عوام کی امنگوں کو دبا کر کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا بی جے پی کا یہ مذموم ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا عدالتی طریقہ کار کو عملا کر آئین ہند میں کشمیر کو دئے گئے خصوصی اور منفرد حقوق کی تذلیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
میرواعظ نے کہ حکومت نشے میں چور اورجموں و کشمیر کے تاریخی اور زمینی حقائق سے چشم پوشی کرکے کشمیر پر فوجی قبضہ کو جوازیت فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ، انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے یہ کشمیر کے عوام اپنے انفرادی تشخص اور حق خودارادیت کےلئے برسر جدوجہد ہیںجیسا کہ 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کو یہ حق دیا گیا۔
انہوں نے کہا کشمیری عوام اسی حق خود ارادیت کےلئے برسرمزاحمت ہیں جس کا ان سے بین الاقوامی سطح پر وعدہ کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اس پر شاہد عدل ہیں۔
میراعظ نے کہا کہ کس طرح ہندوستان اپنے وعدے سے مکر سکتا ہے۔ کیا اس وعدے کی کوئی میعاد مقرر ہے۔ انہوں نے کہا اس وعدے کی وقت گذرنے کے ساتھ افادیت کم نہیں ہوئی نہ ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا توکشمیریوں کی تیسری اور چوتھی نسل اس قدر مزاحمت کےلئے سڑکوں کا رخ نہیں کرتے اور شہید نہ ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اگر ہندوستان کی قیادت اس مسئلہ سے جڑے سیاسی حقائق کو تسلیم کرتی تو انہیں یہاں لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج کو تعینات کرنے کی ضرورت نہ تھی اور ساتھ ہی ساتھ حقوق انسانی کی اس قدر پامالی وقوع پذیر نہ ہوتی جیسا کہ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹوں میں میں پیش کیا ہے۔
میرواعظ نے مزید کہا کہ ظلم و جبر اور طاقت کے بل پر کشمیریوں کی خواہشات اور جذبات کو ہرگزدبایا نہیں جاسکتا ہے۔
انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ کشمیری عوام کے جذبات اورخواہشات کو صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا پھر اس مسئلہ سے جڑے تینوں فریق ہندوستان، پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین ایک بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ جو لوگ حق پر یقین رکھتے ہیں فتح انہی کی ہوتی ہے اور کشمیری عوام کی رواں جدوجہد مبنی برحق اور بے شمار قربانیوں سے مزین ہے اور ہمارا یقین ہے کہ یہاں کے عوام اپنی اس جدوجہد میں سرخرو ہونگے۔
Comments are closed.