سونہ وار چلو کال کو انتظامیہ نے ناکام بنادیا۔ یاسین ملک بچھوارہ ڈلگیٹ میں نمودار اور جلوس کی قیادت کی بعد میں پولیس نے حراست میں لیا 

سوپور ، پلوامہ اور ڈلگیٹ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں۔ سات پولیس اسٹیشنوں میں سخت کرفیو ۔ جامع مسجد میں پانچویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ پر پابندی عائد
سرینگر؍21؍جولائی؍ ؍؍ مزاحمتی قیادت کی جانب سے سونہ وار چلو کال کو ناکام بناتے ہوئے انتظامیہ نے شہر سرینگر کے سات پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین کرفیو نافذ کیا تھا۔ سونہ وار کی طرف جانے والی شاہراؤں کو خار دار تار سے سیل کیا گیا تھا اور کسی کو بھی سونہ وار جانے کی اجازت نہیں دی جار ہی تھی ۔ ڈلگیٹ میں نمازجمعہ کے بعد لبریشن فرنٹ کا چیرمین محمد یاسین ملک نمودار ہوا جس دوران پورا علاقہ اسلام و آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی بھاری جمعیت نے لبریشن فرنٹ چیرمین کو حراست میں لیا اس دوران مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے پتھراو کیا۔ سوپور ، پلوامہ میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس دوران آنسوں گیس کے گولے داغے گئے ۔ دریں اثنا تاریخی جامع مسجد میں مسلسل پانچویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ انتظامیہ نے شہر خاص میں سخت ترین کرفیو نافذ کیا تھا۔ جے کے این ایس کے مطابق مزاحمتی قیادت کی جانب سے سونہ وار چلو کال کو ناکام بناتے ہوئے انتظامیہ نے شہر سرینگر کے سات پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی ۔ نمائندے کے مطابق رام منشی باغ کے تحت آ نے والوں علاقوں کو فورسز نے دیر رات کانٹے دار تار سے سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی ۔ نمائندے کے مطابق سونہ وار کی طرف دن بھر کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ بچھوارہ ڈلگیٹ جامع مسجد میں لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک نمودار ہوا اور لوگوں سے کئی منٹوں تک خطاب کیا ۔ نمائندے کے مطابق نماز جمعہ کے بعد محمد یاسین ملک کی قیادت میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جونہی سونہ وار کی طرف پیش قدمی شروع کی اس دوران پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت علاقہ میں نمودار ہوئی اور محمد یاسین ملک اور اُس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا ۔ گرفتاری کے بعد بچھوارہ ڈلگیٹ میں قائم سی آر پی ایف کیمپ پر مشتعل ہجوم نے دھاوا بول کر شدید پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج کیا گیا جس کے بعد حالات معمول پر آئے ۔ نمائندے کے مطابق سہ پہر پانچ بجے کے قریب ڈلگیٹ مین روڑ پر نوجوانوں نے فورسز پر پتھراو کیا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ ادھر تاریخی جامع مسجد میں مسلسل پانچویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ پولیس وفورسز نے جامع مسجد کی طرف جانے والی شاہراؤں کو سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ نماز جمعہ کے بعد اننت ناگ، پلوامہ اور آرونی کولگام میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور60سالہ معمر شخص کے قتل میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ نمائندے کے مطابق آرونی کولگام میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جلوس بھی نکالا جو بعد میں پُر امن طورپر منتشر ہوا۔ شمالی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد سوپور سے احتجاجی جلوس برآمد ہوا اور سونہ وار کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔ نمائندے کے مطابق پہلے سے تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق پتھراو کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کی جس کی وجہ سے جامع مسجد سوپور اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ پولیس ترجمان کے مطابق معمولی پتھراو کے واقعات کو چھوڑ کر مجموعی طورپر وادی کشمیر میں جمعہ کے روز حالات معمول پر رہے ۔

Comments are closed.