وسطی ضلع بڈگام کا بیروہ علاقہ خاک و خون میں غلطاں
فوج نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی ایک نوجوان کی موقعے پر ہی موت واقع 2زخمی ، بیروہ میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں
مظاہرین نے فورسز پر پتھراو کیا جوابی کارروائی میں ایک نوجوان ہلاک ہوا، 53آر آر کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے /پولیس
سرینگر؍21؍جولائی؍ ؍؍ وسطی ضلع بڈگام کا بیروہ علاقہ اُس وقت خاک و خون میں غلطاں ہو جب فوجی اہلکاروں نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک نوجوان کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ بیروہ قصبہ میں خبر پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نوجوان کی نعش کو کاندھوں پر اٹھا کر احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز نے پُر امن مظاہرین پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ پولیس ترجمان کے مطابق بیروہ میں خشت باری کے دوران شر پسند عناصر نے پٹاخے چھوڑے فورسز کو لگا کہ کسی نے گرنیڈ داغا ہے اور جوابی کارروائی کے بطور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک کی موت واقع ہوئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق 53آر آر کے خلاف کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق نماز جمعہ کے بعد بیروہ قصبہ میں چند نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران اچانک علاقے میں فوجی گاڑیاں نمودار ہوئیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق پُر امن طورپر احتجاج کر رہے نوجوانوں پر فورسز نے بندوقوں کے دہانے کھولے جس کے نتیجے میں تین افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے تنویر احمد وانی ولد محمد اکبر ساکنہ آروہ بیروہ کو مردہ قرار دیا ۔ نمائندے کے مطابق بیروہ قصبہ میں خبر پھیلتے ہی مرد و زن، بوڑھے اور بچے اپنے گھروں سے باہر آئے اور نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کرنے لگے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ڈسٹرکٹ اسپتال بیروہ سے نوجوان کی نعش کو کاندھوں پر اٹھا کر آروہ گاؤں پہنچایا اس دوران پورا قصبہ اسلام و آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ نمائندے کے مطابق نوجوان کی نماز جنازہ میں ہزارو ں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور آخری رسومات ادا کرنے کے ساتھ ہی نوجوانوں اور فورسز کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جس دوران سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ نمائندے کے مطابق مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ نماز جمعہ کے بعد نوجوان مسجد سے باہر آرہے تھے کہ اس دوران فوجی گاڑیوں میں موجود اہلکاروں نے بغیر کسی اشتعال کے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی وجہ سے تین افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک کی موت واقع ہوئی ۔ مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ منصوبہ بند سازش کے تحت نوجوان نسل کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور قتل میں ملوث اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دی جار ہی ہے۔ ادھر پولیس ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی اہلکار کیمپ کی طرف جا رہے تھے کہ بیروہ کے قریب سماج دشمن عناصر نے فوج پر پتھراو کیا اس دوران پٹاخے بھی چھوڑے گئے جس کے نتیجے میں فوج کو غلط فہمی ہوئی کہ عسکریت پسندوں نے گرنیڈ داغا ، فوجی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کے بطور فائرنگ کی جس کی وجہ سے تنویر احمد پالہ اور محمد ابراہیم وانی زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے تنویر کو مردہ قرار دیا ۔ دریں اثنا بڈگام پولیس کے مطابق 53راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے بیروہ میں خشت باری کر رہے نوجوانوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک کی موت واقع ہوئی جبکہ دوسرے کی حالت اسپتال میں مستحکم ہے۔ پولیس کے مطابق 53آر آر کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں ایک اور نوجوان جس کی شناخت معراج الدین ساکنہ گوری پورہ کے بطور ہوئی ہے زخمی ہوا ہے اور اُس کو ضلع اسپتال بڈگام منتقل کیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع سے جے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کی حالت مستحکم ہے۔
Comments are closed.