مریکہ ، چین کی مداخلت سے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے  مرکزی حکومت کے پاس مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے بات چیت واحد راستہ /فاروق عبدا ﷲ

اسرینگر؍21؍جولائی؍ ؍؍ امریکہ ، چین کی مداخلت سے مسئلہ کشمیر کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے حل کرنے کا مرکزی حکومت کو مشور ہ دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ نے کہاکہ کشمیر کی موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے پاس بات چیت کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچا ۔ انہوں نے کہاکہ دوستوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن ہمسائیوں کو نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کریں تاکہ ریاست خاص کر وادی کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جاسکے۔ جے کے این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبدا ﷲ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے امریکہ اور چین سے مدد لینی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ اور چین کی مداخلت سے مسئلہ کشمیر کو باہمی گفت شنید کے ذریعے حل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں ہر روز انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، نوجوان موجودہ حکومت سے ناراض ہے اور موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹر فاروق عبدا ﷲ نے سوالیہ انداز میں کہاکہ مرکزی حکومت چین کے ساتھ تمام مسائل پر مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے ضمن میں راہ فرار اختیار کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں منصوبہ بند سازش کے تحت نوجوانوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے جس پر روک لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ فاروق عبدا ﷲ کے مطابق دوستوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن ہمسائیوں کو نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں کافی کوششیں کیں تاہم موجودہ بی جے پی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اسے تباہی آئے گی ، حکومت کو ہوش کے ناخن لے کر پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے ۔ سابق مرکزی وزیر نے کہاکہ ریاست خاص کروا دی کشمیر میں امن و امان کو درہم برہم کرنے والوں کی شناخت ہونی چاہئے کہ کون لوگ ہیں جو خرمن امن کو آگ لگانا چاہتے ہیں۔

Comments are closed.