بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے خلاف بائیکاٹ مہم چلائی جائیگی :سیول سوسائٹی
سرینگر (کے پی ایس): سیول سوسائٹی نے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے خلاف بائیکاٹ مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس مہم میں ریاست کی تمام مین اسٹریم اور مزاحمتی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائیگا جبکہ آرٹیکل 35اے کی منسوخی تک جموں وکشمیر میں انتخابی عمل لاحاصل مشق ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کی بحالی کےلئے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک عرضی دائر کی جائیگی جبکہ 1952سے لیکر اب تک ریاستی آئین کے خلاف کی گئی سازشوں کی ہائی کورٹ کے حاضر یا ریٹائر جج کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے ۔
سیول سائٹی کواڑی نیشن کمیٹی ممبران مظفر احمد شاہ ،جگ موہن رینہ اور ایڈوکیٹ جاوید میر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔انہوں نے دفعہ35اے کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں دائر عرضیوں کو خارج کرنے تک 4نکاتی پروگرام تشکیل دےتے ہوئے کہا کہ سیول سوسائٹی جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کی بحالی کےلئے 1952دہلی معاہدہ کے تحت سپریم کورٹ آف انڈیا میں آئندہ10دنوں کے اندر اندر ایک عرضی دائر کی جائیگی ۔یہ پہلی عرضی ہوگی جو سپریم کورٹ آف انڈیا میں جموں وکشمیر کی اندرونی خود مختاری کی بحالی کےلئے ہوگی ۔انہو ں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ریاست بھر میں تمام متعلقین کے ساتھ میٹنگیں کی جائیں گی ،جن میں مین اسٹریم اور مزاحمتی قیادت بھی شامل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مسئلے کے حل کےلئے ہند پاک میں حزب اقتدار،حزب اختلاف جماعتوں ،علاقائی پارٹیوں اور سیول سوسائٹی سے بھی مذاکراتی عمل بحال کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار مظفر آباد اور گلگت بلتستان کے ساتھ پانچ خطوں کے درمیان سمٹ کا منصوبہ حکومت ہند اور پاکستان ،علیحدگی پسند لیڈران اور مین اسٹریم جماعتوں کو دیا جائیگا ،تاکہ گفت شنید کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکے ۔دفعہ 35اے کی سماعت کی ملتوی کو بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے عندیا دیا کہ اس دفعہ کے خلاف دائر عرضیوں کو خارج کیا جائیگا ،کیونکہ تین رُکنی بینچ کے ایک جج نے استعفار کرتے ہوئے دفعہ مخالف عرض دہندگان سے پوچھا 60برسوں سے آپ کہا ں تھے؟۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ35اے کی منسوخی سے متعلق عرضیوں کے خلاف قانونی جنگ جاری رہے گی جبکہ آئندہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور اندرونی خود مختاری کی بحالی کےلئے بیداری مہم نہ صرف ریاست جموں وکشمیر بلکہ ملکی سطح پر چھیڑ دی جائیگی ۔انہوں نے آرٹیکل35اے کی منسوخی سے متعلق دائر عرضیوں کے اخراج تک جموں وکشمیر بلدیاتی اور پنچایتی انتخابی عمل لاحاصل مشق ہے ۔انہوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی کال دےتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سمیت تمام جماعتوں کا ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جبکہ ریاست کے تینوں خطوں میں بائیکاٹ مہم چلائی جائیگی ۔ایک سوال کے جواب میں مظفر شاہ نے اُنکی جماعت عوامی نیشنل کانفرنس بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کال کی مکمل حمایت اور تائید کرتی ہے ۔
Comments are closed.