سرینگر(پی آر):اے آئی پی سربراہ انجینئر رشید نے سپریم کورٹ میں 35-Aکے متعلق دائر عرضداشت پر ہونے والی شنوائی کو 19جنوری تک ملتوی کئے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لکھنپور سے لیکر کرناہ تک ہر ریاستی باشندے کو یہ امید تھی کہ سپریم کورٹ ریاست کے لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مذکور ہ عرضداشت کو خارج کرے گی ۔
اپنے بیان میں انجینئر رشید نے کہا ”جس طرح سپریم کورٹ نے ریاستی اور مرکزی سرکار کی اس دلیل کہ ریاست میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر شنوائی کو ملتوی کیا جائے کو مان لیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف نئی دلی کو خود اس بات کا احساس ہے کہ 35-Aکس قدر لوگوں کے دلوں سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ریاست کے لوگوں کے جذبات کی دلی کے پاس کوئی قدر نہیں ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ جہاں 30برسوں کی مارا ماری کے بعد اب بات 70برس پرانے تنازعہ کشمیر پر ہونی چاہئے تھی وہاں کشمیریوں کو جان بوجھ کر سپریم کورٹ میں گھسیٹ کر میٹھا زہر پینے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔ 35-Aکی بر قراری کشمیریوں کی منزل نہیں مجبوری ہے اور نئی دلی اگر چہ کشمیریوں کو 35-Aکے نام پر تھکانا چاہتی ہے لیکن ریاست کے لوگو ں کے پاس 35-Aکا دفاع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ تاہم یہ بات نئی دلی کو سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیری قوم ایک پُر امن سیاسی تحریک کے ذریعے اُس مسئلہ کا حل چاہتی ہے جس نے پورے بر صغیر کو یرغمال بنا کے رکھا ہے ۔
بیان کے مطابق نئی دلی کیلئے بہتر یہ ہوگا کہ 35-Aکا تماشہ بند کرکے اقوام متحدہ کی قرادادوں پر بات کرے تاکہ پورا بر صغیر امن اور چین سے ترقی کی راہ پر چل پڑے “۔ انجینئر رشید نے کہا کہ یہ بات باعث شرم ہے کہ مرکزی وریاستی سرکار 35-Aکی صرف شنوائی ملتوی کروانا چاہتی ہے اور اس کی منسوخی کا مطالبہ نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ”عبرت کا مقام یہ ہے کہ شنوائی کی معطلی کشمیریوں کے جذبات کے احترام کیلئے نہیں بلکہ بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ممکن ہو سکی ہے ۔
بیان میں بتایا گیا کہ یہ ریاست کی مین اسٹریم جماعتوں خاص طور سے این سی اور پی ڈی پی کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ انہیں کس طرح ایک بار پھر ربر کی مہروں کی طرح استعمال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ علاقائی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ کُل جماعتی وفد کی صورت میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملیں اور انہیں صاف صاف کہہ دیں کہ انہیں 35-Aیا 370کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہ کئے جانے کی جب تک انہیں یقین دہانی نہ کرائی جائے گی وہ انتخابات میں حصہ لیکر اپنے ہی لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی حماقت نہیں کریں گی“۔
انجینئر رشید نے کہا کہ وقت آ چکا ہے کہ مین اسٹریم جماعتیں متحد ہو کر کوئی ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں جس سے نئی دلی کیلئے کشمیریوں کو ہر بار رسوا کرنا اور عدالتی شنوائیوں کے نام پر انہیں بلیک میل کرنا ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔
Comments are closed.