کل سپریم کورٹ میں دفعہ35Aکیس کی سماعت

5عرضی دہندگان اور11مداخلتی درخواست دہندگان کے قانونی صلاحکاردینگے دلائل

ریاستی سرکارکی کیس کی سماعت کوملتوی کئے جانے کی اپیل ،سولسٹرجنرل کاموقف ہوگااہم

سری نگر:کشمیروادی ،خطہ چناب اورخطہ پیرپنچال میں 2روزہ ہمہ گیرہڑتال اوراحتجاجی ریلیوں کے بیچ کل یعنی31،اگست بروزجمعتہ المبارک کوسپریم کورٹ آف انڈیامیںدفعہ35Aکیس کی سماعت چیف جسٹس،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے ہوگی۔

وی دی سٹیزن نامی ایک این جی اﺅ سمیت5عرضی دہندگان ،11مداخلتی درخواست گزاروں اورریاستی سرکارکے نامزدسینئرقانون دان سماعت کے دوران دفعہ35Aکیخلاف اوراسکے حق میں اپنے اپنے دلاءپیش کریں گے جبکہ اس دوران ریاستی سرکارکے قانونی صلاحکارایڈووکیٹ شعیب عالم کی جانب سے کیس کی سماعت پنچایتی وبلدیاتی انتخابات کے پیش نظرملتوی کئے جانے کی تحریری اپیل بشکل ایک مکتوب کوبھی زیرغورلایاجائیگا۔

خیال رہے اس کیس کی آخری سماعت 6،اگست کوعدالت عظمیٰ میں ہوئی تھی تاہم سہ رکنی خصوصی بینچ میں شامل جسٹس اے ایم کھانوالکرکی غیرحاضری کے باعث 31،اگست تک کیلئے ملتوی کی گئی تھی جبکہ سماعت کے دوران اُس روزچیف جسٹس جسٹس دیپک مشرانے یہ ریمارکس دئیے تھے کہ دفعہ35Aکوئی ایک دن کامعاملہ نہیں بلکہ یہ 6دہائیوں پراناایک معاملہ ہے جسکافیصلہ صرف ایک دن میں نہیں لیاجاسکتاہے ۔

کل سپریم کورٹ میں دفعہ35Aکیس کی سماعت کے دوران ممکنہ طورپر5عرضی دہندگان ،11مداخلتی درخواست دہندگان اورریاستی سرکارکے نامزدقانون صلاحکاروں کواپنااپناموقف عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھنے کاموقعہ دیاجائیگاجبکہ میڈیارپورٹس کے مطابق فریقین کے وکیل یاقانونی صلاحکاروں کوفی کس 15،15منٹ دئیے جائیں گے ،اوراس طرح سے دلائل دینے میں وکلاءکم سے کم 240منٹ یعنی 4گھنٹے لیں گے ۔

خیال رہے دلی نشین ایک این جی اﺅوی دی سٹیزنزنے سال 2014میں دفعہ35Aکیخلاف ایک عرضی دائرکی تھی جبکہ اسکے بعدمزیدکم سے کم چارمزیدعرضیاں بھی اس دفعہ کیخلاف سپریم کورٹ میں دائرکیاگیا۔عدالت عظمیٰ میں کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعدجب دفعہ35Aکے مستقبل کولیکرجموں وکشمیرمیں تشویش کی لہردوڑگئی تونیشنل کانفرنس،پی ڈی پی ،سیول سوسائٹی کشمیر،کشمیربارایسوسی ایشن اورسی پی آئی ایم سمیت11سیاسی جماعتوں اورغیرسیاسی گروپوں کی جانب سے دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کیخلاف مداخلتی درخواستیں داخل کرائی گئیں ۔سپریم کورٹ نے سبھی مخالف اورحامی عرضیوں ودرخواستوں کوکیس کیساتھ جوڑکراسکی سماعت کوآگے بڑھایا۔

غورطلب ہے کہ نیشنل کانفرنس نے اپنی دائردرخواست پردلائل دینے کیلئے سابق سولسٹرجنرل آف انڈیاگوپال سبھرامنیم کی خدمات حاصل کی ہیں جبکہ پی ڈی پی نے اپناموقف عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھنے کیلئے ممبرپارلیمنٹ اورسینئرقانون داں مظفرحسین بیگ کی سربراہی میں ایک لیگل ٹیم تشکیل دی ۔سیول سوسائٹی اوراے این سی نے سینئرخاتون قانون داں ایڈووکیٹ میناکشی ارورہ کواپناوکیل مقررکیاہے جبکہ سی پی آئی ایم کی مداخلتی عرضی کی روشنی میں ایڈووکیٹ پی وی سریندراناتھ عدالت عظمیٰ میں پیش ہونگے۔خیال رہے ریاستی سرکارنے بدھ کے روز عدالت عظمیٰ سے اپیل کی کہ ریاست میں اگلے ماہ سے ہونے والے پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کے پیش نظردفعہ35A کیس کی سماعت کوزیرالتواءرکھاجائے۔

ریاستی سرکارکے قانونی صلاحکارایڈووکیٹ شعیب عالم نے29،اگست بروزبدھ وارکورجسٹرارسپریم کورٹ کوایک خط بھیجا،جس میں انہوں نے لکھاکہ جموں وکشمیرمیں ان دنوں مجوزہ پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں ،اورایسے میں 35Aکامعاملہ مجوزہ انتخابی عمل کے انعقادپراثراندازہوسکتاہے ۔انہوں نے رجسٹرارسے استدعاکی کہ وہ یہ خط چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشرا،جسٹس ڈی وائے چندرچوڑاورجسٹس اے ایم کھانوالکر تک پہنچائیں تاکہ اُنھیں اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لینے میں کسی دقعت کاسامنانہ کرناپڑے۔

غورطلب ہے کہ وی دی سٹیزن سمیت 5فریقین نے عدالت عظمیٰ میں دفعہ35Aکیخلاف الگ الگ عرضیاں دائرکرتے ہوئے یہ موقف اختیارکیاہے کہ یہ دفعہ بنیادی شہری حقوق اورآئین ہندکے منافی ہے ،اسلئے دفعہ35Aکومنسوخ کیاجائے جبکہ ریاستی سرکارسمیت لگ بھگ ایک درجن فریقین نے مداخلتی عرضیا ں جمع کراتے ہوئے دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیاں خارج کرنے کی مانگ کی ہے۔یاد رہے کہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمدیاسین خان نے دوسرے مرحلے کے احتجاجی پروگرام کے تحت 30 اور 31 اگست کو ہڑتال کی کال دی ہے ،جس کو سماج کے ہر ایک طبقے کی حمایت حاصل ہے ۔یہ ہڑتال کال مزاحمتی قیادت کی جانب سے آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف بطور احتجاج دی گئی ہے ۔

Comments are closed.