نوجوان کو فوجی گاڑی کے ساتھ باندھنے کا معاملہ  حکومت متاثرہ نوجوان کے حق میں 10لاکھ روپیہ واگزار کرئے ، فوج کے خلاف کارروائی کرنے کا ہمارے پاس اختیار نہیں

سرینگر10 ؍؍جولائی ؍ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے فوجی گاڑی کے ساتھ نوجوان کو باندھنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو نوجوان کے حق میں 10لاکھ روپیہ معاوضہ فراہم کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ کمیشن نے واضح کردیا ہے کہ فوج کے خلاف کارروائی کرنے کے ضمن میں اُن کے پاس اختیارات نہیں ۔ جے کے این ایس کے مطابق ضمنی انتخابات کے روز وسطی ضلع بڈگام میں فوج کی جانب سے نوجوان کو گاڑی کے ساتھ باندھنے کے بعد اگر چہ مرکزی حکومت نے میجر کو تمغہ شجاعت سے نوازا تاہم ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے نوجوان کو گاڑی کے ساتھ باندھنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت کو متاثرہ نوجوان کے حق میں فوری طورپر دس لاکھ روپیہ ایکس گریشا دینے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن میں پٹیشن کی شنوائی کے دوران کمیشن کے چیرمین جسٹس بلال نازکی نے فیصلہ سنتے ہوئے کہاکہ چونکہ کمیشن کے پاس فوج کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار نہیں تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ متاثرہ نوجوان کو انصاف فراہم نہ کیا جائے ۔ کمیشن کے چیرمین نے ریاستی حکومت کو احکامات صادر کرتے ہوئے کہاکہ نوجوان کے حق میں فوری طورپر دس لاکھ روپیہ واگزار کئے جائے ۔ واضح رہے کہ 9اپریل کو ضمنی انتخابات کے دوران وسطی ضلع بڈگام میں فوجی میجر نے مقامی نوجوان کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر علاقے کا گشت کیا تھا ۔

Comments are closed.