کچھ ماہ میں 15نوجوانوں کی گھرواپسی:ایس پی پانی
سری نگر: ریاستی پولیس کے صوبائی سربراہ سوامی پرکاش پانی نے سوشل میڈیاکوملی ٹنسی کارُجحان بڑھنے کی ایک بڑی وجہ قراردیتے ہوئے یہ انکشاف کیاہے کہ پچھلے کچھ ماہ کے دوران جنوبی کشمیرمیں 15نوجوانوں نے جنگجوئیت کاراستہ ترک کیا۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ جنوبی کشمیرکے کچھ ملی ٹنسی سے متاثرہ علاقوں میں تشددکاگراف کم ہواہے۔
ایک انٹرویوکے دوران انسپکٹرجنرل پولیس کشمیرزون ایس پی پانی نے کہاکہ کشمیرمیں حالیہ کچھ برسو ں کے دوران نوجوانوں میں ملی ٹنسی کارُجحان فروغ پانے کی کئی وجوہات ہیں ،اوران میں ایک بڑی وجہ سوشل میڈیارہاہے۔انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیاپرکچھ ایساپروپگنڈہ کیاجاتاہے کہ کشمیری نوجوانوں کاذہن متاثرہوجاتاہے اوروہ ملی ٹنسی جیساخطرناک راستہ اپنالیتے ہیں ۔تاہم آئی جی پی کشمیرکاکہناتھاکہ اب نوجوان ملی ٹنسی کاراستہ ترک کرکے واپس اپنے گھرآرہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ پچھلے کچھ ماہ کے دوران جنوبی کشمیرمیں 15نوجوانوں نے جنگجوئیت کاراستہ ترک کیا،جسکے نتیجے میں جنوبی کشمیرکے کچھ ملی ٹنسی سے متاثرہ علاقوں میں تشددکاگراف نیچے آیاہے ۔ایس پی پانی نے کہاہے کہ جنوبی کشمیرمیں بتدریج حالات بہترہورہے ہیں کیونکہ اب والدین اپنے بچوں کوملی ٹنسی کاراستہ چھوڑنے کیلئے آمادہ کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی پولیس اُن نوجوانوں کی بازآبادکاری کے وعدے پرکاربندہے جووالدین کی بات سن کربندوق اورتشددکاراستہ ترک کرتے ہیں ۔
پولیس کے صوبائی سربراہ سوامی پرکاش پانی نے مزیدکہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ کشمیری نوجوان ملی ٹنسی یاتشددکاکوئی دوسراراستہ اختیارکرکے اپنی زندگیاں اوراپنے مستقبل کوخوداپنے ہاتھوں سے بربادکریں بلکہ ہماری یہ خواہش اورکوشش ہے کہ نوجوان اپنے مستقبل کوتابناک اورباوقاربنائیں ۔انہوں نے کہاکہ شمالی کشمیرمیں سرحدپارجانے کی کوشش کے دوران جن چارنوجوانوں کوگرفتارکیاگیا،اُن کی کونسلنگ جاری ہے،اوریہ کہ اُنکی بازآبادکاری کاخاص خیال رکھاجائیگا۔کے این این
Comments are closed.