ہندو عسکریت پسند کی گرفتاری سے خفیہ اداروں میں ہلچل مچ گئی  اُتر پردیش حکومت نے پولیس ٹیم کو کشمیر کی طرف روانہ کیا ، مرکزی وزارت داخلہ نے کیس ڈائری مانگی 

سرینگر10 ؍؍جولائی ؍ ؍ جموں وکشمیر پولیس کی جانب سے اتر پردیش کے ضلع مظفرنگر سے تعلق رکھنے والے ہندو جنگجو کو گرفتار کرنے کی خبر منظر عام پر آتی ہی خفیہ اداروں میں ہلچل مچ گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ اتر پردیش حکومت نے پولیس کی خصوصی ٹیم کو وادی روانہ کیا ہے۔ جے کے این ایس کے آئی جی کشمیر منیر خان کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران ہندو عسکریت پسند سندیپ کمار عرف عادل ساکنہ مظفر نگر اتر پردیش کو گرفتار کرنے کی خبر سوشل میڈیا اور نیوز چینلوں پر وائرل ہونے کے ساتھ ہی خفیہ اداروں میں ہلچل مچ گئی ۔ ذرائع کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں فوری طورپر رپورٹ پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں جبکہ اُتر پردیش کی حکومت نے انسداد دہشت گردی ادارے سے وابستہ اہلکاروں کو فوری طورپر وادی روانہ کیا ہے۔ یو پی کے آئی جی ارون کمار نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ہندو دہشت گرد کی گرفتاری کے بعد پولیس کے خصوصی اسکارڈ کو کشمیر کی طرف روانہ کیا گیا ہے تاکہ وہ عسکریت پسند سے پوچھ تاچھ کر سکیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سندیپ کمار کی جانب سے لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرنے اور کئی حملوں میں ملوث ہونے کے بعد خفیہ ایجنسیوں میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ لشکر طیبہ نے کس طرح سے سندیپ کمار کو جنگجو صفوں میں شامل کرایا اس کی بھی تحقیقات ہو رہی ہے

Comments are closed.