ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لشکر طیبہ سے وابستہ ہندو عسکریت پسند کو گرفتار کیا گیا ہندو عسکریت پسند بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا
سرینگر10 ؍؍جولائی ؍؍ اچھ بل اننت ناگ میں ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ہندو جنگجو اور اُس کے ساتھی کو پولیس نے گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ جنگجوپولیس کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے ۔ آئی جی کشمیر کے مطابق ہندو جنگجو اور اُس کے ساتھی جنوبی کشمیر میں اے ٹی ایم مشینوں کو لوٹنے میں بھی براہ راست ملوث ہیں۔ آئی جی کشمیر نے مزید بتایا کہ تحقیقات بڑے پیمانے پر جاری ہے اور مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق آئی جی کشمیر منیر خان نے ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے کہاکہ پہلی مرتبہ ہندو عسکریت پسند جو کہ لشکر طیبہ کیلئے اپنی خدمات انجام دے رہا تھا کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی کشمیر نے کہاکہ جنوبی کشمیر میں اے ٹی ایمز کو لوٹنے اور پولیس وفورسز پر جان لیوا حملے کرنے میں ملوث لشکر طیبہ کے ہندو دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی جی نے مزید بتایا کہ 3جون کو لو ر منڈا قاضی گنڈ میں پولیس پارٹی پر حملہ کرنے میں بھی مذکورہ عسکریت پسند ملوث تھے۔ آئی جی کشمیر نے ہندو عسکریت پسند کی شناخت سندیپ کمار شرما عرف عادل ساکنہ مظفر نگر اتر پردیش اور اُس کے ساتھی منیب شاہ ساکنہ کولگام کے بطور کرتے ہوئے کہاکہ دونوں عسکریت پسند پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے۔ آئی جی کے مطابق 13جو ن کو آنچی ڈورہ اننت ناگ میں جسٹس عطار کے رہائشی مکان پر حملہ کرنے اور ہتھیار چھیننے میں بھی یہی لوگ ملوث ہیں۔ 16جون کو اچھ بل میں ایس ایچ اور اور چھ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں بھی لشکر طیبہ سے وابستہ مذکورہ عسکریت پسند ملوث ہیں۔ آئی جی کشمیر کے مطابق جنوبی کشمیر کے مومن آباد اشاجی پورہ ، کے پی روڑ اننت ناگ ، لارکی پورہ اننت ناگ ، اچھ بل اڈا،زر پارہ بجبہاڑہ میں اے ٹی ایم کو لوٹنے میں ہندو جنگجو اور اُس کے ساتھی براہ راست ملوث ہیں۔ آئی جی نے بتایا کہ ہندو عسکریت پسند لشکر طیبہ کیلئے اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہندو دہشت گرد نے جنگجو کمانڈر بشیر لشکری گروپ میں جوائن کیا اور یکم جولائی کو دیلگام اننت ناگ میں جھڑپ کے دوران ہندو دہشت گرد کو زندہ گرفتار کیا گیا تھا۔ آئی جی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ہندو دہشت گرد نہ صرف اے ٹی ایموں کو لوٹنے میں مہارت رکھتا تھا بلکہ عسکریت پسندوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے اور اُن کا اسلحہ لینے اور لیجانے میں بھی پیش پیش رہتا تھا۔ آئی جی کشمیر کے مطابق تحقیقات بڑے پیمانے پر جاری ہے اور ہندو دہشت گرد کے دوسرے ساتھیوں کی بھی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی گئی ہے۔
Comments are closed.